گرین لینڈ کے وزیر اعظم جینز فریڈرک نیلسن نے کہا ہے وہ ایک فخر کی حامل قوم کی نمائندگی کرتے ہیں تاکہ بین الاقوامی سطح پر قانون کو بالادست اور بحال رکھنے کی کوشش کر سکیں۔ انہوں نے جمعرات کے روز اس امر کا اظہار صدر ٹرمپ کے ان خیالات کے جواب میں کیا جو ٹرمپ نے گرین لینڈ جزیرے کے بارے میں ایک بار پھر ظاہر کیے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے بدھ کے روز نیٹو کے بارے میں اپنی جاری فرسٹریشن کا اظہار کیا اور کہا ایران کے خلاف جنگ کے دوران امریکہ اور نیٹو کے تعلقات بحرانی حالت کو چھو گئے ہیں۔ کیوجہ جب امریکہ کو ایران کے خلاف جنگ جیتنے کے لیے اس اتحاد کی ضرورت تھی تو یہ امریکہ کے ساتھ نہیں کھڑا تھا۔ اس موقع پر انہوں نے گرین لینڈ کے بارے میں کہا 'ایک بڑا جزیرہ جسے برے طریقے سے چلایا جا رہا ہے، برف کا ایک ٹکرا۔'
نیلسن نے کہا اہم بات یہ ہے کہ ہم دنیا کے نظام کو بحال رکھیں اور عالمی برادری کو اکٹھا رکھیں۔ جسے ہم نے دوسری جنگ عظیم کے بعد سے منظم کر رکھا ہے۔ جہاں تک اس امر کا تعلق ہے کہ ہم ایک دفاعی اتحاد ہیں ہم اس چیز کا احترام کرتے ہیں۔ اس لیے بین الاقوامی قانون کا بھی سبھوں کو احترام کرنا چاہیے۔
آج جن چیزوں کو چیلنج کیا جا رہا ہے، میرے خیال میں ہم تمام اتحادیوں کو اس سلسلے میں یکجا اور متحد رہنا چاہیے۔ میں امید کرتا ہوں یہ ہوگا۔ کیونکہ نیٹو اتحادی اس سال کے شروع سے ہی اس کوشش میں ہیں کہ اتحاد کو بر قرار رکھیں اور اس کے دستیاب سارے راستے اختیار کریں۔ یہ کوشش اس پس منظر میں کی جارہی ہیں جو صدر ٹرمپ نے گرین لینڈ کو ڈنمارک سے قبضے میں لینے کی بات کو دہرایا ہے۔ حالانکہ ڈنمارک نیٹو کا اتحادی ہے۔
وزیر اعظم گرین لینڈ نے ٹرمپ کے خیالات کو مسترد کرتے ہوئے کہا 'ہم برف کا ٹکڑا نہیں ہیں۔ ہمیں اپنے 57000 عوام پر فخر ہے۔ جو ہر روز ایک اچھے بین الاقوامی شہری کے طور پر اپنا مثبت کردار ادا کرتے ہیں اور اپنے تمام اتحادیوں کا احترام کرتے ہیں۔'