متنازع تصویر حذف کرنے کے بعد ٹرمپ کی پوپ پر دوبارہ تنقید شروع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ویٹی کن کے سربراہ پوپ لیو چہار دہم پر اپنی تنقید دوبارہ دہراتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کا جوہری ہتھیار حاصل کرنا کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔

انہوں نے بدھ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل" پر لکھا کہ کیا کوئی پوپ لیو کو بتائے گا کہ ایران نے گزشتہ دو ماہ میں کم از کم 42 ہزار نہتے مظاہرین کو ہلاک کیا،اس کا ایٹمی ہتھیار حاصل کرنا بالکل ناقابلِ قبول ہے۔

ٹرمپ نے پوپ سے معذرت کرنے سے بھی انکار کرتے ہوئے کہا کہ معافی کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ ان کے بقول پوپ غلط ہیں۔

انہوں نے پوپ کو جرائم کے معاملے میں کمزور اور خارجہ پالیسی میں نہایت کمزور قرار دیا اور کہا کہ انہیں مئی 2025 میں صرف اس لیے منتخب کیا گیا کیونکہ وہ امریکی ہیں۔

مسیح کی تصویر

بعد ازاں ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ تصویر شیئر کی جس میں انہیں گویا ''مسیح ''کے روپ میں دکھایا گیا تھا، تاہم انہوں نے بعد میں یہ تصویر حذف کر دی اور وضاحت کی کہ اس میں انہیں ایک ڈاکٹر کے طور پر دکھایا گیا تھا۔

دوسری جانب پوپ نے گزشتہ پیر الجزائر جانے والی پرواز میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ ٹرمپ انتظامیہ سے خوفزدہ نہیں ہیں، وہ انجیل کے اس پیغام پر کھل کر بات کرتے رہیں گے جو امن کی دعوت دیتا ہے۔

اس سے قبل وہ ٹرمپ کے اس بیان کو بھی ''بالکل ناقابل قبول'' قرار دے چکے ہیں جس میں ایران کی "مکمل تہذیب کو تباہ کرنے کی دھمکی دی گئی تھی۔

پوپ اس سے پہلے بھی ٹرمپ کی مہاجرین کے خلاف اجتماعی بے دخلی کی مہم پر تنقید کر چکے ہیں اور اسے غیر انسانی قرار دیا تھا۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پوپ کی جانب سے کی جانے والی ان تنقیدوں نے امریکی صدر کو ایک غیر معمولی محاذ آرائی میں لا کھڑا کیا ہے، جس کے امریکا کی اندرونی سیاست پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

یہاں تک کہ ٹرمپ کو اپنے کچھ اتحادیوں کی جانب سے بھی سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا، خاص طور پر پوپ پر حملوں کے حوالے سے جو خود امریکا میں پیدا ہوئے ہیں۔

پوپ نے امریکی حکومت کی غیر قانونی ہجرت سے متعلق پالیسیوں، وینزویلا میں مداخلت اور ایران کے ساتھ جنگ پر بھی اعتراضات اٹھائے ہیں۔

اس صورتحال نے ریپبلکن پارٹی کے لیے خدشات بڑھا دیے ہیں کہ آئندہ نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں وہ کانگریس پر اپنی گرفت کھو سکتے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ایران کے ساتھ جنگ کے باعث تیل کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں اور معاشی حالات بھی خراب ہیں۔

یاد رہے کہ ٹرمپ طویل عرصے سے اپنے قدامت پسند نظریات کے ذریعے مسیحی ووٹرز کو اپنی طرف مائل کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں اور خاص طور پر انجیلی مسیحیوں نے 2016 اور 2024 کے انتخابات میں ان کی بھرپور حمایت کی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں