جمعہ کے روز اے ایف پی کے ملاحظہ کردہ ایک بیان میں لندن کی شپنگ انشورنس کمپنیوں نے آبنائے ہرمز سے گذرنے والے جہازوں کے لیے ایک بلین ڈالر کی اضافی کوریج فراہم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
انشورنس فرم Beazley نے کہا ہے کہ وہ سرگردہ انشورنس مارکیٹ Lloyd's کے ذریعے اضافی کوریج فراہم کرنے کے لیے "بحری جنگی کنسورشیم" کی قیادت کرے گی۔
فرم نے کہا، "جیسا کہ کنسورشیم آبنائے ہرمز میں اور اس کے اردگرد ایک پیچیدہ اور وقوع پذیر صورتِ حال سے نبردآزما ہے تو یہ اضافی جنگی بیمے کی صلاحیت کے ساتھ سمندری شعبے کی معاونت کے لیے وضع کیا گیا ہے۔"
نیز کہا، یہ سہولت "بحری جہازوں اور ان کے مالِ تجارت کو آبنائے ہرمز سے گذرنے کے دوران فراہم کی جائے گی؛ کوریج بیزلے کی نقصان کی رقم اور قسم کے مطابق اور تمام عالمی پابندیوں کی تعمیل میں ہو گی۔"
بیزلے کے سربراہ ایڈرین کاکس نے بیان میں کہا، یہ انتظام "عالمی تجارت کو رواں دواں رکھنے میں مدد کرے گا۔"
تجزیہ کاروں نے اے ایف پی کو بتایا، جنگ سے انشورنس کے لیے ادائیگیوں میں اضافہ ہوا ہے جو مال برداری کی عالمی صنعت کو مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے۔
برطانیہ کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشن سینٹر کے مطابق تقریباً 30 جہازوں نے علاقے میں حملے یا نشانہ بننے کی اطلاع دی ہے۔
دنیا کی سب سے بڑی شپنگ انشورنس مارکیٹ لندن میں بیمہ کمپنیوں کے سربراہان کا اصرار ہے کہ جہازوں کے کپتان اس راستے سے گریز اپنے عملے کی حفاظت کے لیے کر رہے ہیں، نہ کہ انشورنس کی عدم دستیابی کے باعث۔
لائیڈز مارکیٹ ایسوسی ایشن نے ایک رپورٹ میں کہا "انشورنس کی دستیابی نہیں بلکہ حفاظتی خدشات جہازوں کی ٹریفک کم کر رہے ہیں،"۔
امریکی وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے مارچ کے آخر میں کہا تھا کہ ہرمز سے راہداری کو بہتر بنانے کے لیے امریکی جہازرانی کی انشورنس جلد کام کرنا شروع کر دے گی۔