1846 کی سرحدی جھڑپ، میکسیکو اپنی 55 فیصد زمین سے محروم ہو گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

مئی 1846 کے دوران ٹیکساس اور سرحدوں سے متعلق بڑھتے ہوئے تنازعات کے بعد امریکہ میکسیکو جنگ چھڑ گئی۔ اس جنگ کے دوران امریکی افواج کو ناقص ہتھیاروں سے لیس میکسیکن فوج کے مقابلے میں زبردست تکنیکی برتری حاصل تھی۔

آغاز سے ہی امریکیوں نے متعدد فتوحات حاصل کرلیں اور وہ دارالحکومت میکسیکو سٹی تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔ اس سے میکسیکن مذاکرات کی میز پر آنے اور "گواڈالپ ہیڈالگو" معاہدے کو قبول کرنے پر مجبور ہو گئے۔ اس جھڑپ نے میکسیکو کو اس کے علاقوں کے ایک بہت بڑے حصے سے محروم کر دیا۔

اس جنگ کا آغاز ایک سرحدی واقعے سے ہوا تھا۔ تھورنٹن واقعے کے طور پر بیان کی جانے والی خونی سرحدی جھڑپوں کے بعد امریکی کانگریس نے جنگ کے فیصلے کی منظوری دینے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی۔

تنازع کیسے بڑھا

انیسویں صدی کی بیسویں اور تیسویں دہائیوں کے درمیان بڑی تعداد میں امریکی آباد کار ٹیکساس میں رہنے کے لیے منتقل ہوئے۔ ٹیکساس اس وقت میکسیکو کا حصہ تھا۔ وہاں امریکی موجودگی بڑھنے کے ساتھ ہی 1836 کے دوران ٹیکساس میں ایک انقلاب برپا ہوا جس کے ذریعے باشندوں نے آزادی کا مطالبہ کیا جس کے نتیجے میں جمہوریہ ٹیکساس وجود میں آئی جسے میکسیکن حکام نے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔

جمہوریہ ٹیکساس نے برسوں تک اپنی آزادی برقرار رکھی لیکن 1845 تک امریکہ نے اس جمہوریہ کو اپنے علاقے میں ضم کر لیا جس سے میکسیکو میں غم و غصہ پیدا ہوا اور میکسیکو نے اس وقت ٹیکساس کو ایک باغی علاقہ قرار دے دیا۔

اس واقعے کے بعد امریکیوں اور میکسیکنز کے درمیان ایک نیا تنازع کھڑا ہو گیا۔ واشنگٹن نے میکسیکو کے ساتھ اپنی سرحد کا تعین ریو گرانڈے کے علاقے پر کیا ۔ میکسیکو نے شمال میں ایک دوسری سرحد کی بات کی اور اس بات پر زور دیا کہ اس کے علاقے اور ٹیکساس کے درمیان تقسیم کرنے والی لکیر نیوسیس دریا ہے۔

سرحدی جھڑپیں

دونوں ملکوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے ساتھ امریکی صدر جیمز پولک نے جنرل زیکری ٹیلر کو جنوب کی طرف بھیجا۔ وہاں وہ اپنی افواج کے ساتھ ریو گرانڈے کے قریب تعینات ہو گئےجسے میکسیکو اپنی خود مختاری کے تحت سمجھتا تھا۔

میکسیکو نے اس عمل کو ایک جارحیت قرار دیا اور سرحدی علاقوں کی طرف اپنی افواج کی ایک بڑی تعداد بھیج کر جواب دینے کا فیصلہ کیا۔ 25 اپریل 1846 کو کیپٹن سیتھ تھورنٹن کی قیادت میں ایک امریکی دستہ ریو گرانڈے کی طرف روانہ ہوا اور علاقے میں چند میل تک داخل ہو گیا۔ وہاں درجنوں فوجیوں پر مشتمل اس امریکی دستے پر میکسیکن افواج نے حملہ کر دیا جو تعداد میں ان سے کہیں زیادہ تھیں جہاں امریکی افواج کو ایک ہزار سے زائد میکسیکن فوجیوں نے گھیرے میں لے لیا تھا۔

اس غیر مساوی جنگ کے دوران میکسیکنز نے تیزی سے فتح حاصل کی۔ وہ 14 امریکی فوجیوں کو ہلاک اور کم از کم 59 دیگر کو قید کرنے میں کامیاب رہے جن میں کیپٹن سیتھ تھورنٹن بھی شامل تھے۔

اعلان جنگ

اس واقعے ، جو تھورنٹن واقعے کے نام سے جانا گیا، نے امریکہ میں غصے کی لہر دوڑا دی۔ اس کی تفصیلات سننے کے بعد امریکی صدر جیمز پولک نے کانگریس سے رجوع کیا اور میکسیکو کے خلاف جنگ کے اعلان کا مطالبہ کیا۔ 13 مئی 1846 کو کانگریس نے میکسیکو کے خلاف حالتِ جنگ کے اعلان میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں دکھائی جس سے امریکہ میکسیکو جنگ کے آغاز کی تصدیق ہو گئی۔

جنگ کی حالت کا اعلان کانگریس کے اندر مخالف آوازوں کے باوجود کیا گیا۔ دوسری جانب مستقبل کے امریکی صدر ابراہام لنکن اس وقت کانگریس کے رکن تھے۔ حالتِ جنگ کے ردعمل میں انہوں نے صدر جیمز پولک سے ان وجوہات کی وضاحت طلب کی جن کی بنا پر تھورنٹن واقعے کے دوران سرحد پر امریکی فوجیوں کا خون بہایا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں