امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کے محاصرے میں شامل ایک تباہ کن جنگی جہاز کی تصویر جاری کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

امریکی بحری ناکہ بندی کے تسلسل کے دوران امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے اعلان کیا ہے کہ تباہ کن جنگی جہاز ''یو ایس ایس رافائل پیرالٹا'' نے گزشتہ روز ایران کی ایک بندرگاہ کی جانب جانے والے ایک بحری جہاز کو روک لیا۔

سینٹ کام نے ہفتے کے روز اپنے ایکس (سابق ٹوئٹر) اکاؤنٹ پر اس کارروائی کی تصویر بھی جاری کی، جس میں امریکی جنگی جہاز کو ایرانی بندرگاہوں کے قریب موجود دکھایا گیا ہے۔

دوسری جانب خطے میں امریکی عسکری موجودگی میں اضافہ بھی دیکھا جا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پہلی بار کئی دہائیوں بعد ایک ہی وقت میں تین امریکی طیارہ بردار بحری بیڑے مشرق وسطیٰ میں موجود ہیں۔

ان میں ''یو ایس ایس ابراہم لنکن (CVN-72)''، ''یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ (CVN-78) ''اور ''یو ایس ایس جارج ایچ، ڈبلیو، بش (CVN-77) ''شامل ہیں۔

یہ تینوں بیڑے مجموعی طور پر 200 سے زائد جنگی طیاروں اور تقریباً 15 ہزار ملاحوں اور میرینز پر مشتمل ہیں، جو خطے میں امریکی بحری طاقت کے بڑے پیمانے پر اظہار کے طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔

محاصرےمیں توسیع

امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے گزشتہ روز ایک بریفنگ میں کہا کہ ایران پر عائد امریکی بحری ناکہ بندی اب عالمی سطح تک پھیل رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ دنیا کے کسی بھی حصے میں آبنائے ہرمز سے کوئی بھی بحری جہاز امریکی بحریہ کی اجازت کے بغیر سفر نہیں کر سکتا۔

چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین کے مطابق امریکی افواج تمام ایرانی بندرگاہوں پر سخت ناکہ بندی جاری رکھے ہوئے ہیں اور امریکی فوج بحرالکاہل اور بحرہند میں ایرانی جہازوں کو روکنے کا سلسلہ بھی جاری رکھے گی۔

یاد رہے کہ ایران پر یہ بحری ناکہ بندی 13 اپریل کو اس وقت شروع کی گئی جب 11 اور 12 اپریل کو اسلام آباد میں ہونے والے ایران-امریکہ مذاکرات کا پہلا دور کسی معاہدے کے بغیر ختم ہو گیا۔

تہران نے اس ناکہ بندی کو دونوں ممالک کے درمیان 8 اپریل کی صبح سے نافذ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

تاہم امریکی انتظامیہ بارہا واضح کر چکی ہے کہ جب تک ایران کے ساتھ کوئی ایسا معاہدہ نہیں ہوتا جس کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کھل جائے، اس وقت تک یہ ناکہ بندی ختم نہیں کی جائے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں