امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کے محاصرے میں شامل ایک تباہ کن جنگی جہاز کی تصویر جاری کر دی
امریکی بحری ناکہ بندی کے تسلسل کے دوران امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے اعلان کیا ہے کہ تباہ کن جنگی جہاز ''یو ایس ایس رافائل پیرالٹا'' نے گزشتہ روز ایران کی ایک بندرگاہ کی جانب جانے والے ایک بحری جہاز کو روک لیا۔
سینٹ کام نے ہفتے کے روز اپنے ایکس (سابق ٹوئٹر) اکاؤنٹ پر اس کارروائی کی تصویر بھی جاری کی، جس میں امریکی جنگی جہاز کو ایرانی بندرگاہوں کے قریب موجود دکھایا گیا ہے۔
دوسری جانب خطے میں امریکی عسکری موجودگی میں اضافہ بھی دیکھا جا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پہلی بار کئی دہائیوں بعد ایک ہی وقت میں تین امریکی طیارہ بردار بحری بیڑے مشرق وسطیٰ میں موجود ہیں۔
ان میں ''یو ایس ایس ابراہم لنکن (CVN-72)''، ''یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ (CVN-78) ''اور ''یو ایس ایس جارج ایچ، ڈبلیو، بش (CVN-77) ''شامل ہیں۔
یہ تینوں بیڑے مجموعی طور پر 200 سے زائد جنگی طیاروں اور تقریباً 15 ہزار ملاحوں اور میرینز پر مشتمل ہیں، جو خطے میں امریکی بحری طاقت کے بڑے پیمانے پر اظہار کے طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
Guided-missile destroyer USS Rafael Peralta (DDG 115) enforces the U.S. blockade on Iranian ports against an Iranian-flagged ship attempting to sail to a port in Iran, April 24. pic.twitter.com/XsGg65nXt2
— U.S. Central Command (@CENTCOM) April 25, 2026
محاصرےمیں توسیع
امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے گزشتہ روز ایک بریفنگ میں کہا کہ ایران پر عائد امریکی بحری ناکہ بندی اب عالمی سطح تک پھیل رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ دنیا کے کسی بھی حصے میں آبنائے ہرمز سے کوئی بھی بحری جہاز امریکی بحریہ کی اجازت کے بغیر سفر نہیں کر سکتا۔
چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین کے مطابق امریکی افواج تمام ایرانی بندرگاہوں پر سخت ناکہ بندی جاری رکھے ہوئے ہیں اور امریکی فوج بحرالکاہل اور بحرہند میں ایرانی جہازوں کو روکنے کا سلسلہ بھی جاری رکھے گی۔
للمرة الأولى منذ عقود، تعمل ثلاث حاملات طائرات في منطقة الشرق الأوسط في آنٍ واحد. بمرافقة الأجنحة الجوية الخاصة بهم، تضم هذه الحاملات وهي: يو أس أس أبراهام لينكولن (CVN 72)، ويو أس أس جيرالد آر. فورد (CVN 78)، ويو أس أس جورج إتش. دبليو. بوش (CVN 77) أكثر من 200 طائرة و15,000 من… pic.twitter.com/fAnnfA5bZ5
— U.S. Central Command - Arabic (@CENTCOMArabic) April 24, 2026
یاد رہے کہ ایران پر یہ بحری ناکہ بندی 13 اپریل کو اس وقت شروع کی گئی جب 11 اور 12 اپریل کو اسلام آباد میں ہونے والے ایران-امریکہ مذاکرات کا پہلا دور کسی معاہدے کے بغیر ختم ہو گیا۔
تہران نے اس ناکہ بندی کو دونوں ممالک کے درمیان 8 اپریل کی صبح سے نافذ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
تاہم امریکی انتظامیہ بارہا واضح کر چکی ہے کہ جب تک ایران کے ساتھ کوئی ایسا معاہدہ نہیں ہوتا جس کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کھل جائے، اس وقت تک یہ ناکہ بندی ختم نہیں کی جائے گی۔
-
افواہوں کا طوفان: قالیباف معاملے پر ایرانی پارلیمنٹ کی وضاحت جاری
گزشتہ چند گھنٹوں میں سوشل میڈیا اور بعض میڈیا رپورٹس نے ایران کی سیاسی فضا میں ...
مشرق وسطی -
پرتشدد احتجاج کو ہوا دینے میں ملوث اسرائیلی ایجنٹ کو پھانسی دے دی: ایران
عدلیہ کی رپورٹ کے مطابق ایران نے ہفتے کے روز ایک شخص کو پھانسی دے دی جس پر جنوری ...
مشرق وسطی -
ایران کا اقرار: آبنائے ہرمز ہمارے مطالبات منوانے کا مؤثر ذریعہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے میں توسیع کے ...
مشرق وسطی