عدلیہ کی رپورٹ کے مطابق ایران نے ہفتے کے روز ایک شخص کو پھانسی دے دی جس پر جنوری میں ملک گیر احتجاج کے دوران اسرائیل کی جاسوسی ایجنسی کا ایک "مشن" انجام دینے کا الزام تھا۔
اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ جنگ شروع ہونے کے بعد سے یہ سزائے موت کے سلسلے کا تازہ ترین واقعہ ہے۔
عدلیہ کی آن لائن ویب سائٹ میزان نے بتایا کہ ملک کی سپریم کورٹ نے عرفان کیانی کی سزا برقرار رکھی جس کے بعد اسے پھانسی دے دی گئی۔
ویب سائٹ نے کیانی کو وسطی ایرانی صوبے اصفہان میں بدامنی کے دوران "موساد کے تفویض کردہ مشن" کا ایک "اہم کارندہ" قرار دیا۔
عدلیہ نے اس پر "سرکاری و نجی املاک کی تباہی، آتش زنی، مولوٹوف کاک ٹیلز قبضے میں رکھنے اور استعمال کرنے، بلیڈ والا ہتھیار رکھنے، گاڑیوں کے راستے روکنے، افسران پر حملہ کرنے اور شہریوں میں خوف و ہراس پھیلانے" کے الزامات لگائے۔
ایران میں جمعرات کو ایک اور شخص کو پھانسی دی گئی جسے ایک ممنوعہ اپوزیشن گروپ کی رکنیت کے جرم میں سزا سنائی گئی تھی۔
انیس مارچ سے اب تک ایرانی حکام نے جنوری کے احتجاجی مظاہروں سے متعلق نو افراد کو سزائے موت دی ہے۔