سپین کے وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے جمعہ کے روز کہا ہے کہ سپین ہمیشہ نیٹو کا ایک قابل بھروسہ رکن رہا ہے۔ انہوں اس امر کا اظہار امریکی صدر سے منسوب ان رپورٹس کے بعد کیا ہے جن میں کہا گیا ہے کہ امریکہ سپین کو نیٹو سے نکالنے کی تیاری کر رہا ہے کہ سپین نے ایران کے خلاف امریکی و اسرائیلی جنگ میں مدد نہیں کی ہے۔
مغربی خبر رساں ادارے 'روئٹرز' کی ایک رپورٹ میں بیان کیا گیا تھا کہ ایک امریکی عہدے دار کے مطابق پینٹاگون نے نیٹو رکنیت کی معطلی کے لیے ایک خاکہ تیار کر لیا ہے۔ تاکہ نیٹو میں شامل ان اتحادیوں کو سزا کے طور پر نیٹو رکنیت سے محروم کیا جا سکے جنہوں نے ایران کے خلاف امریکہ و اسرائیل کو مدد دینے سے انکار کیا ہے۔ خبر رساں ادارے کے مطابق اس سلسلے میں اس نے ایک ای میل کا مطالعہ کیا ہے۔ جس میں نیٹو رکنیت خاتمے کے طریقوں کا ذکر کیا گیا ہے۔
سانچیز نے قبرص کے دورہ کے موقع پر رپورٹرز سے بات چیت کرتے ہوئے کہا 'سپین نے بطور ایک قابل بھروسہ نیٹو رکن کے اپنی ذمہ داریاں پوری کی ہیں۔ وہ یورپی یونین کی کانفرنس میں شرکت کے لیے قبرص پہنچے تھے۔ ایک سوال پر ہسپانوی وزیر اعظم نے کہا 'ان رپورٹس کی بنیاد میں میں قطعاً پریشان نہیں ہوں۔'
ہسپانوی رہنما نے کہا ہمارا کام ای میلز کی بنیاد پر نہیں کھڑا ہے۔ ہم سرکاری دستاویزات کی بنیاد پر کوئی موقف اختیار کرتے ہیں اور انہی کی بنیاد پر فیصلے اور کام کرتے ہیں۔ جس طرح کے کہ امریکی حکومت نے اس معاملے میں کیا ہے۔
خیال رہے دنیا کے سب سے بڑے دفاعی اتحاد نیٹو معاہدے میں ایسی کوئی صورت موجود نہیں ہے کہ ایک رکن کی اس طرح رکنیت معطل یا ختم کی جا سکے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے متعدد بار یہ بات کہی ہے کہ وہ ایران کے خلاف جنگ کا حصہ نہ بننے والے نیٹو اتحادیوں کو غدار کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ان میں سے فرانس ، سپین اور اٹلی نے مشرق وسطیٰ کو جنگی نشانہ بنانے کے لیے امریکہ کو اپنے فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دینے سے منع کر دیا تھا۔ نیز اپنی فضائی حدود سے پرواز کر کے ایران کے خلاف جنگی آپریشن کرنے کی بھی اجازت نہیں دی تھی۔
امریکہ کو اس سلسلے میں بھی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا کہ نیٹو کے یورپی ملک آبنائے ہرمز میں اپنے جہاز بھیج کر کر ایران کے خلاف اس کی مدد کریں۔ خیال رہے آبنائے ہرمز دنیا میں تیل کی سپلائی کے لیے اہم آبی راہداری ہے۔ جس سے تیل کا بیس فیصد حصہ گزرتا ہے۔ جبکہ قدرتی گیس کی بھی بڑی مقدار اس آبنائے سے گزر کر اسعمال کرنے والے ملکوں تک پہنچتی ہے۔
امریکہ و اسرائیل کے حملوں کے بعد ایران نے اس آبنائے کو موثر طریقے سے بند کرنے کا اعلان کر دیا تھا تاکہ اس کے دشمن ملکوں اور خصوصا ان ملکوں کے جہاز نہ گزر سکیں جو امریکہ اور اسرائیل کے ایران کے خلاف جنگ میں اتحادی ہیں۔ امریکہ نے اپنے نیٹو اتحادیوں کو اس دوران کئی بار تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا وہ تو محض کاغذی شیر ہیں۔
تاہم ہسپانوی وزیر اعظم پیڈرو سانچیز کا کہنا ہے ان کے ملک نے ہمیشہ اتحادیوں کے ساتھ مکمل تعاون کیا ہے۔ لیکن یہ تعاون ہمیشہ بین الاقوامی قانون کے اندر رہ کر کیا ہے۔ سانچیز جب سے ٹرمپ دوبارہ صدر بنے ہیں ٹرمپ کو مخالف سمت میں ملے ہیں۔ ٹرمپ نے یورپی ملکوں کو نیٹو فنڈنگ اپنے جی ڈی پی کا پانچ فیصد کرنے کا کہا تو سپین نے مخالفت کی ۔ امریکہ نے وینزویلا کے صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کو ان کی خواب گاہ سے اغوا کیا تو سپین نے اس اغوا پر بھی تنقید کی۔ اس تناظر میں صدر ٹرمپ کو سپین کی نیٹو رکنیت ختم کرنے کا کہنا پڑا۔
دائیں بازو سے تعلق رکھنے والی اٹلی کی وزیر اعظم جارجیا میلونی نے بھی یورپی یونین کی کانفرنس میں شرکت کے لیے قبرص پہنچنے پر رپورٹرز سے بات چیت کی اور کہا وہ سمجھتی ہیں کہ نیٹو کو متحد رہنا چاہیے کیونکہ ان کے نزدیک یہ طاقت اور مضبوطی کا ذریعہ ہے۔ یورپی یونین کی اگلی کانفرنس 7 اور 8 جولائی کو ترکیہ میں ہوگی۔