1792ء: ٗوہ سال جب ایک فوجی کمانڈر نے پیرس کے تمام باشندوں کو قتل کرنے کی دھمکی دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

1789 کے دوران فرانس انقلاب کے واقعات کے آغاز کے زیر اثر رہا جو بنیادی طور پر پیرس والوں کے بارود کی تلاش میں باستیل جیل پر حملے کے بعد شروع ہوا تھا۔ اس کے نتیجے میں فرانسیسی بادشاہ لوئس شانزدہم اپنی طاقت کا ایک حصہ کھو بیٹھے جس کے ساتھ ہی آئینی بادشاہت کے دور کا اعلان ہوا۔ دوسری طرف انقلاب کے نتیجے میں اشرافیہ اور مذہبی رہنما اپنی مراعات اور جائیدادوں کے بڑے حصے سے محروم ہو گئے۔

اس دوران فرانسیسی انقلاب کے واقعات نے کئی یورپی ملکوں میں بے چینی پیدا کر دی جنہیں اس کے اپنے ملکوں میں منتقل ہونے کا خدشہ تھا۔ اپریل 1792 کے دوران یورپ میں صورتحال دھماکہ خیز ہوگئی۔ اس مہینے میں فرانسیسی انقلابی جنگوں کا آغاز ہوا جو تقریباً 10 سال تک جاری رہیں اور جس میں تقریباً دس لاکھ افراد ہلاک ہوگئے۔

جنگ سے پہلے یورپ کی صورتحال

سیکسیونی کے پیلنیٹز محل میں 25 سے 27 اگست 1791 کے درمیان مقدس رومی سلطنت کے شہنشاہ اور آسٹریا کے آرچ ڈیوک لیوپولڈ دوم نے اپنے پروشین ہم منصب فریڈرک ولیم دوم سے ملاقات کی۔ پولینڈ کے معاملے سے متعلق کئی امور پر بحث کرنے کے علاوہ، دونوں مردوں نے فرانسیسی بادشاہ لوئس شانزدہم کے ساتھ کھڑے ہونے اور ان کی اقتدار پر گرفت برقرار رکھنے اور فرانس میں جمہوریہ کے قیام کو روکنے میں ان کی حمایت کرنے کا عہد کرلیا۔

دوسری طرف فرانس اس عرصے کے دوران سیاسی افراتفری کا شکار رہا، خاص طور پر جون 1791 کے دوران لوئس شانزدہم کی خفیہ طور پر فرار ہونے کی ناکام کوشش کے بعد افراتفری رہی۔ اسے "وارین کی طرف فرار" کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس واقعے کے بعد انقلاب کے بہت سے رہنماؤں نے بادشاہ کے ارادوں پر شک کیا اور یورپی بادشاہوں کے ساتھ ان کی ممکنہ ملی بھگت کی بات کی۔

ان پیش رفتوں کی وجہ سے فرانس آئینی بادشاہت کے حامیوں اور لوئس شانزدہم کی حکومت ختم کر کے جمہوریہ کے قیام کا مطالبہ کرنے والوں کے درمیان تقسیم ہو گیا۔ صفوں میں اتحاد برقرار رکھنے کی امید میں، انقلاب کے بہت سے رہنماؤں نے ان ممالک کے خلاف قومی جنگ لڑنے کے خیال کی حمایت کی جنہوں نے فرانس پر حملہ کرنے کی دھمکی دی تھی۔

جنگ کا فیصلہ

فرانس کے اندر گیرونڈسٹ دھڑے نے انتہا پسندوں کی حمایت کے ساتھ یورپی طاقتوں کے خلاف جنگ میں شامل ہونے کی حمایت کی جبکہ دیگر سیاست دانوں نے صبر کا مشورہ دیا۔ بادشاہ لوئس شانزدہم نے جنگ کے آپشن کی حمایت کی# اس کے ذریعے وہ اپنے ملک کی شکست اور یورپی افواج کے پیرس میں داخل ہونے کے خواہاں تھے تاکہ ان کا مکمل اختیار بحال ہو سکے اور انقلاب کا خاتمہ ہو سکے۔

20 اپریل 1792 کو بادشاہ نے جنگ کا فیصلہ نیشنل اسمبلی میں ووٹنگ کے لیے پیش کیا جس پر بھاری اکثریت نے آسٹریا کے خلاف جنگ کے اعلان کی منظوری دے دی۔ یہ فرانسیسی انقلابی جنگوں کا آغاز تھا جو 1802 تک جاری رہیں۔

براؤنشوائگ کا اعلان

تنازع شروع ہونے کے مہینوں بعد پروشین فوجی کمانڈر اور ڈیوک آف براؤنشوائگ نے 25 جولائی 1792 کو وہ جاری کیا جسے ’’ براؤنشوائگ ڈیکلریشن ‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس میں انہوں نے بادشاہ لوئس شانزدہم اور ان کی اہلیہ میری اینٹونیٹ کی حفاظت کی ضمانت اور انقلابیوں کے ٹوئیلری محل کے قریب نہ آنے کا مطالبہ کیا۔

ڈیوک نے دھمکی دی کہ اگر بادشاہ کو کسی بھی خطرے کا سامنا کرنا پڑا تو اس کی افواج، جو فوجی برتری رکھتی تھیں، پیرس میں داخل ہو کر مارشل لاء نافذ کر دیں گی بلکہ اس کے تمام باشندوں کو موت کے گھاٹ اتار دیں گی۔

اس اعلان نے فرانس میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی۔ بہت سے لوگوں نے بادشاہ کی وفاداری پر شک کیا۔ پیرس کے باشندوں کو ڈرانے کے بجائے، اس دھمکی نے لوئس شانزدہم کا تختہ الٹنے کے مطالبات کو تیز کر دیا۔ تقریباً دو ہفتوں بعد انقلابیوں نے ٹوئیلری محل پر حملہ کیا اور بادشاہ کو گرفتار کر لیا۔ اسے 10 اگست 1792 کی بغاوت کے نام سے جانا جاتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں