آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت بحال کرنے کے لیے نیا امریکی اتحاد بنانے کی تجویز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

بین الاقوامی جہاز رانی کی آزادی کو یقینی بنانے کے لیے ایک نئی پیش رفت کے طور پر امریکی انتظامیہ ایک نیا عالمی اتحاد قائم کرنے پر کام کر رہی ہے، جس کا مقصد آبنائے ہرمز میں جہازوں کی نقل و حرکت کو بحال اور محفوظ بنانا ہے۔

اس اتحاد کو "سمندری آزادی کی تعمیر" کا نام دیا گیا ہے، دیگر ممالک کو بھی اس میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی ہے۔

امریکی وزارت خارجہ کی ایک اندرونی رپورٹ کے مطابق اس اتحاد کا مقصد سفارتی کوششوں میں ہم آہنگی پیدا کرنا، معلومات کا تبادلہ کرنا اور پابندیوں کے نفاذ کو یقینی بنانا ہے-یہ خبر وال اسٹریٹ جرنل کے حوالے سے سامنے آئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ اتحاد امریکی وزارت خارجہ اور امریکی سینٹرل کمانڈ کے درمیان شراکت پر مشتمل ہوگا۔ وزارت خارجہ سفارتی اقدامات کی نگرانی کرے گی جبکہ سینٹرل کمانڈ سمندری نگرانی اور تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت سے متعلق معلومات فراہم کرے گی۔

اس منصوبے کا بنیادی مقصد عالمی معیشت کے لیے نہایت اہم اس سمندری راستے میں "آزادیٔ جہاز رانی" کو مضبوط بنانا ہے، جبکہ ایران کی جانب سے درپیش چیلنجز، جیسے بارودی سرنگوں کا خطرہ یا آئل ٹینکروں کو نشانہ بنانا کا مقابلہ کرنا بھی اس میں شامل ہے-

سفارتی اور سیاسی حکمت عملی

ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار نے کہا کہ یہ اقدام واشنگٹن کے پاس موجود سفارتی اور سیاسی ذرائع میں سے ایک ہے، جس کے ذریعے اہم سمندری راستوں میں عالمی تجارت کے تسلسل کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔

دوسری جانب امریکی فوج نے اعلان کیا کہ ایران پر عائد بحری محاصرہ "بہت مؤثر" ثابت ہو رہا ہے، اس نے ایرانی بندرگاہوں کی طرف آنے جانے والی تجارت کو محدود کر دیا ہے۔

بیان کے مطابق امریکی افواج سمندر کے ذریعے سامان کی ترسیل روکنے کے لیے بھرپور کارروائیاں کر رہی ہیں، جس کے نتیجے میں ایران کو 6 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان ہو چکا ہے، جبکہ اس کی تیل برآمدات بھی متاثر ہوئی ہیں۔

ادھر امریکی صدر نے واضح کیا ہے کہ ایران پر بحری محاصرہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک تہران ایسا معاہدہ نہیں کرتا جو امریکہ کے جوہری پروگرام سے متعلق خدشات کو دور کرے۔

یاد رہے کہ 13 اپریل کو امریکہ نے ایران پر مکمل بحری محاصرہ عائد کیا تھا، جب اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کا پہلا دور کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکا۔ یہ کشیدگی 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ کے بعد بڑھی۔

امریکی انتظامیہ مسلسل یہ مؤقف دہرا رہی ہے کہ جب تک آبنائے ہرمز کھولی نہیں جاتی اور ان کے مطالبات کے مطابق معاہدہ نہیں ہوتا محاصرہ برقرار رہے گا۔

دوسری جانب ایران نے بھی واضح کیا ہے کہ وہ پہلے بحری محاصرہ ختم کرنے کا مطالبہ کرتا ہے، اس کے بعد ہی آبنائے ہرمز کے معاملے پر بات چیت ممکن ہوگی، جہاں جنگ کے بعد سے جہاز رانی شدید متاثر ہو چکی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں