غزہ جانے والے فلوٹیلا کو اسرائیل کی طرف سے روکنے پر سپین کا سخت احتجاج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

غزہ جانے کے لیے رواں دواں فلوٹیلا کواسرائیلی فوج کی طرف سے روکے جانے پر سپین نے اسرائیل کی پرزور مذمت کی ہے۔ فلوٹیلا پرہسپانوی شہری سوار ہیں جو اہل غزہ کے ساتھ انسانی بنیادوں پر اظہار یکجہتی کے لیے جانا چاہتے تھے۔ فلوٹیلا کو یونان کے نزدیک بین الاقوامی پانیوں میں روکا گیا ہے۔

اس سلسلے میں میڈرڈ میں اسرائیلی ناظم الامور کو جمعرات کے روز طلب کیا گیا اور فلوٹیلا کو روکے جانے پر احتجاجی مراسلہ دیا گیا۔ یہ بات ہسپانوی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہی گئی ہے۔

بیان میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اسرائیل میں موجود ہسپانوی سفارتی عملہ فلوٹیلا کے منتظمین کے ساتھ رابطے میں ہے۔ جبکہ وزیر خارجہ جوز مینوئل الباریس نے بھی اسرائیلی ہم منصب سے فلوٹیلا پر موجود اپنے شہریوں کے لیے بات کی ہے۔

غزہ میں جنگ بندی معاہدے کے باوجود اسرائیل کی طرف سے غزہ کے جاری محاصرے کو علامتی طور پر توڑنے کے لیے یہ فلوٹیلا حالیہ ہفتوں میں فرانس کی بندرگاہ سے روانہ ہوا تھا۔ یہ اٹلی اور سپین کے راستے آگے بڑھا تھا۔

فلوٹیلا کے منتظمین نے جمعرات کے روز اعلان کیا کہ ان کے ساتھ جانے والی کشتیوں کو کریٹ کے ساحل سے روانہ ہونے کے بعد اسرائیلی بحریہ کے جہازوں نے محاصرے میں لے لیا ہے۔

سپین اور اسرائیل کے درمیان غزہ جنگ میں اسرائیل کی طرف سے بین الاقوامی قانون اور انسانی حقوق کی بد ترین خلاف ورزیوں کے باعث تعلقات میں کافی رخنہ آگیا ہے۔ ہسپانوی وزیر اعظم پیڈرو سانچیز اسرائیل کی طرف سے غزہ کے لوگوں اور فلسطینی علاقوں پر بمباری کے سخت ناقد رہے ہیں۔

ہسپانوی رہنما نے امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جاری مشترکہ جنگ کی بھی مخالفت کی ہے۔ جس پر اسرائیل نے بھی سخت رد عمل ظاہر کیا ہے۔ ماہ اپریل میں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے امریکہ کی غزہ جنگ بندی کے بعد کوششوں میں سپین کے شامل ہونے کی مخالفت کی ہے۔ نیتن یاہو نے الزام لگایا ہے کہ سپین نے اسرائیل کے خلاف سفارتی سطح پر مہم شروع کر رکھی ہے۔ اس تنازعے پر دونوں ملکوں نے اپنے سفیروں کو ایک دوسرے سے واپس بلا لیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں