ایک شخص کو جمعہ کو لندن کی ایک عدالت نے دہشت گرد کارروائی کی تیاری کا مجرم قرار دے دیا جس نے گذشتہ سال دو چاقوؤں سے مسلح ہو کر اور "شہادت کے نوٹ" کے ساتھ اسرائیل کے لندن سفارت خانے میں داخل ہونے کی کوشش کی تھی۔
سیاسی پناہ کی تلاش میں ناکام 34 سالہ کویتی شہری عبداللہ البدری نے اپریل 2025 میں سفارت خانے کی حدود میں دراندازی کی کوشش کی کیونکہ وہ "بچوں کے قتل" کے بارے میں پیغام دینا چاہتا تھا، استغاثہ نے اس ماہ اس کے مقدمے کی سماعت میں کہا۔
البدری نے دہشت گرد کارروائی کی تیاری اور بلیڈ والے دو ہتھیار رکھنے کے الزامات سے انکار کیا اور پولیس کو بتایا کہ اس کے پاس چاقو اس لیے تھے کہ وہ بے گھر تھا لیکن جمعہ کو ایک جیوری نے اسے مجرم قرار دیا۔
شمالی لندن میں دو یہودیوں پر چاقو کے وار کیے جانے کے دو دن بعد یہ فیصلے سامنے آئے جسے پولیس نے دہشت گردی کا مشتبہ واقعہ قرار دیا ہے۔ اس سے برطانیہ کی یہودی برادری میں خوف میں اضافہ ہوا ہے۔
گذشتہ مہینے ایک ایران نواز گروپ نے آن لائن دعویٰ کیا تھا کہ اس نے سفارت خانے کو "خطرناک مادے" لے جانے والے ڈرون سے نشانہ بنایا۔ پولیس نے بعد میں کہا کہ انہیں کوئی خطرناک مادہ نہیں ملا۔
البدری کو دو مسلح افسران نے اس وقت گرفتار کیا تھا جب اس نے گذشتہ اپریل میں مغربی لندن میں سفارت خانے کے باہر باڑ پھلانگنے کی کوشش کی تھی۔ استغاثہ کے مطابق اس نے بعد میں پولیس کو بتایا کہ وہ (اسرائیل-حماس) جنگ روکنے کے بارے میں پیغام دینا چاہتا تھا۔
"استغاثہ نے کہا ہے کہ بچوں کے مبینہ قتل کا بدلہ لینے کے لیے مسٹر البدری کا مقصد اسرائیلی حکومت کے خلاف سنگین تشدد کا استعمال کرنا یا اس کی دھمکی دینا تھا،" کیتھرین پیٹیسن نے اولڈ بیلی میں ججز کو بتایا۔
پیٹیسن نے کہا کہ البدری دو مواقع پر ایک چھوٹی کشتی کے ذریعے برطانیہ پہنچا تھا اور حال ہی میں گذشتہ سال اپریل میں ملک میں داخل ہوا تھا جب اس نے سیاسی پناہ کی درخواست دی تھی۔ اس میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ اسے انسانی حقوق کے کارکن کے طور پر کویت میں خطرات کا سامنا تھا۔
تاہم اس کے فون پر پیغامات کے تبادلے سے معلوم ہوا کہ اس مہینے کے آخر میں اس کی پناہ کی درخواست مسترد کر دی گئی تھی جس کے بعد اس کا ارادہ "بہت زیادہ خطرناک" ہونے لگا اور اس نے اسرائیلی سفارت خانے کے مقام کی تلاش شروع کر دی، پیٹیسن نے کہا۔
انسدادِ دہشت گردی پولیس لندن کی سربراہ کمانڈر ہیلن فلانیگن نے کہا کہ اسرائیلی سفارتخانے کو متعدد حفاظتی انتباہات کا سامنا کرنا پڑا ہے لیکن پولیس "مسلسل حفاظتی منصوبوں کا جائزہ لیتے ہوئے یہ یقینی بناتی ہے کہ اس جگہ اور وسیع تر یہودی برادری کو ہر ممکن حد تک محفوظ رکھا جائے۔"