یورپ اور امریکی انتظامیہ کے درمیان تعلقات میں تناؤ کے دوران یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس نے کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے جرمنی سے 5000 فوجی نکالنے کے منصوبے کے اعلان کا وقت حیران کن ہے۔
آج پیر کے روز آرمینیا میں یورپی پولیٹیکل کمیٹی کے سربراہی اجلاس میں آمد کے موقع پر کالاس نے کہا کہ "اس اعلان کا وقت حیران کن ہے.. میرا خیال ہے کہ یہ نیٹو میں یورپی ستون کو مضبوط کرنے کی ضرورت اور مزید کوششیں کرنے کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے"۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ "یورپ میں امریکی افواج کی موجودگی صرف یورپی مفادات کے تحفظ کے لیے نہیں بلکہ اس میں امریکی مفادات کا تحفظ بھی شامل ہے"۔
یہ بیان نیٹو کے سکریٹری جنرل مارک روٹے کے اس بیان کے بعد سامنے آئے ہیں جس میں انہوں نے آج قبل ازیں واضح کیا تھا کہ یورپی ممالک کو "امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا پیغام مل گیا ہے اور وہ اب فوجی اڈوں کے استعمال سے متعلق معاہدوں پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں"۔ روٹے نے آرمینیا میں یورپی پولیٹیکل کمیٹی کے اجلاس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "امریکی جانب سے کچھ ناراضگی پائی جاتی تھی، لیکن یورپیوں نے اسے سن لیا ہے"۔
امریکی صدر نے گذشتہ ہفتے کے روز اعلان کیا تھا کہ ان کا ملک جرمنی میں اپنی فوجی موجودگی میں نمایاں کمی کرے گا، یہ فیصلہ چانسلر فریڈرک میرٹز کے ساتھ اختلافات میں اضافے اور امریکہ کے یورپی سکیورٹی سے متعلق وعدوں کو کم کرنے کی کوششوں کے تناظر میں کیا گیا ہے۔
دوسری جانب جرمن وزیر دفاع بورس پسٹوریس اس وقت اپنے ملک سے 5 ہزار امریکی فوجیوں کی واپسی کی خبروں پر پرُسکون نظر آئے۔ انہوں نے کہا کہ اس کمی کی توقع تھی جس کی دھمکی ٹرمپ برسوں سے دے رہے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یورپی ممالک کو اپنے دفاع کے لیے مزید ذمہ داری اٹھانے کی ضرورت ہے۔ تاہم انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سکیورٹی تعاون سے ٹرانس اٹلانٹک شراکت داری کے دونوں فریقوں کو فائدہ پہنچا ہے۔ پسٹوریس نے جرمن نیوز ایجنسی "ڈی پی اے" کو بتایا کہ "یورپ اور خاص طور پر جرمنی میں امریکی فوجیوں کی موجودگی ہمارے مفاد میں ہے اور امریکہ کے مفاد میں بھی ہے"۔
یاد رہے کہ یورپیوں اور ٹرمپ کے درمیان تناؤ اس وقت پیدا ہوا جب انہوں نے نیٹو کے بعض ممالک پر ایران کے خلاف جنگ میں امریکہ کی حمایت میں کوتاہی کا الزام لگایا اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو محفوظ بنانے میں حصہ نہ لینے پر ان پر تنقید کی۔