جنوبی کوریا کا آبنائے ہرمز میں امریکی آپریشن میں شامل ہونے پر غور
جنوبی کوریا آبنائے ہرمز میں جہاز میں لگنے والی آگ کی تحقیقات کر رہا ہے ... اور جہازوں کی محفوظ آمد و رفت یقینی بنانے کے لیے بین الاقوامی مذاکرات میں بھی شریک ہو رہا ہے
جنوبی کوریا نے آج منگل کے روز کہا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں امریکی کارروائیوں میں شامل ہونے کے حوالے سے اپنے موقف کا "جائزہ لے گا۔ یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے کے قریب ایک کوریائی بحری جہاز پر حملے کے بعد سیؤل سے اس کا مطالبہ کیا تھا۔
اس سے قبل پیر کے روز اطلاع ملی تھی کہ مشرقِ وسطیٰ میں 28 فروری کو جنگ کے آغاز کے بعد عملاً بند سمجھے جانے والے اس بحری راستے میں ایک جنوبی کوریائی کارگو جہاز پر دھماکا اور آگ لگ گئی۔
آج منگل کی صبح میڈیا رپورٹوں میں بتایا گیا کہ جنوبی کوریا اس آگ کے واقعے پر غور کے لیے ایک اجلاس منعقد کرے گا، جو آبنائے ہرمز میں ایک کوریائی جہاز پر بھڑکی۔
اخبار "مانی ٹوڈے" کے مطابق جنوبی کوریا کے صدارتی دفتر (بلیو ہاؤس) میں ایک اجلاس منعقد ہوا جس کی صدارت چیف آف اسٹاف کانگ ہون سک نے کی، جس میں آبنائے ہرمز میں کوریائی جہاز پر لگنے والی آگ کا معاملہ زیر بحث آیا۔
جنوبی کوریا کی وزارتِ دفاع نے بھی کہا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز سے جہازوں کی محفوظ آمد و رفت کو یقینی بنانے کے لیے بین الاقوامی مذاکرات میں حصہ لے گی۔
جنوبی کوریا کی وزارتِ خارجہ نے اعلان کیا کہ حکام آبنائے ہرمز میں ایک جنوبی کوریائی کمپنی کے زیرِ انتظام جہاز میں لگنے والی آگ کی وجوہات کی تحقیقات کریں گے، یہ اقدام جہاز کو قریبی بندرگاہ تک منتقل کیے جانے کے بعد کیا جائے گا۔
وزارت نے ایک بیان میں کہا "حادثے کی درست وجہ جہاز کو کھینچ کر لانے اور اس کے نقصانات کا جائزہ لینے کے بعد ہی معلوم ہو سکے گی۔"
یہ پیش رفت اُس وقت سامنے آئی جب جنوبی کوریا کی شپنگ کمپنی "ایچ ایم ایم" کے جہاز پر لگنے والی آگ کو بجھا دیا گیا، جو ایک دھماکے کے بعد بھڑکی تھی۔ یہ بات سرکاری خبر رساں ایجنسی یونہاپ نے منگل کے روز اپنی رپورٹ میں بتائی۔
کمپنی کے مطابق جہاز کے عملے کو آگ بجھانے میں تقریباً چار گھنٹے لگے، جبکہ توقع ہے کہ آئندہ چند دنوں میں جہاز کو کھینچ کر دبئی لے جایا جائے گا۔
یونہاپ کے مطابق دھماکے کے وقت یہ جہاز متحدہ عرب امارات کے قریب آبنائے ہرمز کے پانیوں میں لنگر انداز تھا۔
سیؤل میں وزارتِ خارجہ نے پیر کے روز بتایا تھا کہ آبنائے ہرمز میں "ایچ ایم ایم" کمپنی کے زیرِ انتظام جہاز پر دھماکہ اور آگ لگنے کا واقعہ پیش آیا۔
کمپنی کے ایک ترجمان نے روئٹرز کو بتایا کہ آگ جہاز کے انجن روم میں لگی، جو پاناما کے پرچم تلے چلنے والا کارگو جہاز ہے۔ اس پر 24 افراد کا عملہ سوار تھا جن میں چھ کوریائی شہری شامل ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ آگ لگنے کی وجہ تاحال واضح نہیں ہو سکی۔
برطانوی میرین رسک مینجمنٹ گروپ "وینگارڈ" نے ایک بیان میں کہا کہ حکام اس بات کا جائزہ لیں گے کہ آیا نقصان کسی حملے، بہتی ہوئی بحری بارودی سرنگ، یا کسی بیرونی شے کے باعث ہوا۔
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل" پر کہا تھا کہ ایران نے ایک جنوبی کوریائی کارگو جہاز پر فائرنگ کی ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ جنوبی کوریا ان کی نئی کوششوں میں شامل ہو، جن کا مقصد آبنائے ہرمز میں پھنسے جہازوں کو محفوظ گزرگاہ فراہم کرنا ہے۔
جنوبی کوریا پہلے ہی یہ کہہ چکا ہے کہ وہ ٹرمپ کی اس اپیل کا بغور جائزہ لے گا جس میں ممالک سے کہا گیا ہے کہ وہ جنگی جہاز تعینات کریں تاکہ ایک ایسا اتحاد بنایا جا سکے جو آبنائے میں محفوظ آمد و رفت کو یقینی بنائے۔ تاہم اس نے یہ بھی واضح کیا کہ اس طرح کے اقدام کے لیے پارلیمانی منظوری درکار ہو گی۔