''معاملہ جلد حل ہو جائے گا''، ٹرمپ کا ایران سے معاہدے کا عندیہ
امریکی صدرکے مطابق ایران نے دیگر امور کے ساتھ جوہری ہتھیار حاصل نہ کرنے پر بھی اتفاق کر لیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کی شام توقع ظاہر کی ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ جلد ختم ہو جائے گی، جبکہ وہ آبنائے ہرمز اور تہران کے جوہری پروگرام سے متعلق تعطل ختم کرنے کے لیے ایک معاہدے کی کوشش کر رہے ہیں۔
جارجیا کے گورنر کے امیدوار برٹ جونز کی حمایت میں منعقدہ ایک تقریب میں ٹرمپ نے کہا: ''جب آپ دیکھتے ہیں کہ کیا ہو رہا ہے، تو آپ کو معلوم ہوتا ہے کہ ہم یہ ایک بہت اہم وجہ سے کر رہے ہیں: ہم انہیں جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ میرا خیال ہے زیادہ تر لوگ یہ بات سمجھتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ہم جو کر رہے ہیں، وہ درست ہے اور یہ معاملہ جلد ختم ہو جائے گا '' ۔
بدھ کے روز اس سے قبل ٹرمپ نے صحافیوں سے وائٹ ہاؤس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران کے ساتھ ایسا معاہدہ ممکن ہے، جو مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کا خاتمہ کر دے۔
ان کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں بہت اچھی بات چیت ہوئی ہے اور معاہدہ ہونے کے امکانات بہت زیادہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہماری گفتگو بہت اچھی رہی ہے، امید ہے کہ ہم معاہدے تک پہنچ جائیں۔
ان کے مطابق امریکہ کے لیے معاملات درست سمت میں جا رہے ہیں، اگر مطلوبہ نتائج نہ ملے تو بڑا قدم اٹھانا پڑے گا۔
ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ان کے خیال میں ایران معاہدہ چاہتا ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ انہوں نے کبھی کوئی حتمی ڈیڈ لائن مقرر نہیں کی، انہیں یقین ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اتفاق ممکن ہے۔
ان کے بقول: یہ ہو جائے گا، یہ ہو جائے گا، لیکن میں کوئی وقت مقرر نہیں کر رہا۔
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ایران نے دیگر امور کے ساتھ جوہری ہتھیار حاصل نہ کرنے پر بھی رضامندی ظاہر کی ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے جوہری ہتھیار حاصل کر لیا تو دنیا اس کے ہاتھوں یرغمال بن سکتی ہے، اس بات پر زور دیا کہ ایران کو کسی صورت جوہری ہتھیار نہیں رکھنے چاہئیں۔
ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ وہ ایران میں ''ایک پاگل قیادت'' سے نجات کے لیے معاشی نقصانات برداشت کرنے کے لیے بھی تیار تھے۔
اس سے قبل انہوں نے ایک امریکی نشریاتی ادارے کو بتایا تھا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ''انتہائی قریب'' ہے اور اگر یہ معاہدہ نہ ہوا تو ''انہیں شدید بمباری کی طرف واپس جانا پڑے گا ''۔
رپورٹس کے مطابق مجوزہ معاہدے میں ایران سے یورینیم کی افزودگی کے لیے استعمال ہونے والا اعلیٰ افزودہ مواد امریکہ کے حوالے کرنے کی بات بھی شامل تھی، تاہم ٹرمپ نے واضح کیا کہ یہ شرط معاہدے کا حصہ نہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران سے یہ مطالبہ کیا جائے گا کہ وہ زیر زمین کوئی بھی جوہری تنصیب فعال نہ کرے۔
دوسری جانب بعض ذرائع کے مطابق ایک تجویز میں ایران کی یورینیم افزودگی کو طویل عرصے کے لیے روکنے کی بات بھی شامل تھی، بعد میں اسے محدود سطح (3اعشاریہ67 فیصد) تک اجازت دی جا سکتی ہے، تاہم ٹرمپ کے مطابق یہ تفصیل موجودہ معاہدے کا حصہ نہیں۔