بنوں حملہ: پاکستان کا افغان ناظم الامور کو طلب کرکے احتجاج، دہشت گردی پر تشویش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

پاکستان کے صدر مقام اسلام آباد میں تعینات افغانستان کے اعلیٰ سفارت کار کو طلب کر کے ایک بار پھر اس بات پر اپنی شدید تشویش کا اظہار کیا کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گرد حملوں کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔

پاکستان دفتر خارجہ کے مطابق افغان ناظم الامور کو سوموار کے روز وزارت خارجہ میں طلب کر کے ڈی مارش کیا گیا تاکہ نو مئی 2026 کو خیبرپختونخوا کے ضلع بنوں میں فتح خیل پولیس چوکی پر کیے گئے آئی ای ڈی حملے کے حوالے سے سخت رد عمل پیش کیا جا سکے۔

بنوں میں ہفتے کی رات ایک چوکی پر حملے کے نتیجے میں 15 پولیس اہلکار جان سے گئے جبکہ تین زخمی ہوئے تھے۔ حملے کے بعد امدادی کارروائی کے لیے پہنچنے والے اہلکاروں پر بھی گھات لگا کر حملہ کیا گیا تھا۔

پاکستان کے شمالی مغربی صوبے خیبرپختونخوا کے ضلع بنوں میں نو مئی کو فتح خیل پولیس پوسٹ پر دہشت گردوں نے بارود سے بھری گاڑی کے ذریعے حملہ کیا، جس کے نتیجے میں 15 پولیس اہلکار جاں بحق جبکہ 4 افراد زخمی ہوئے، جن میں ایک شہری بھی شامل ہے۔

دفتر خارجہ کے مطابق واقعے کی تفصیلی تحقیقات، شواہد اور تکنیکی انٹیلی جنس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں موجود دہشت گردوں نے کی۔ پاکستان نے افغان حکام پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشتگرد کارروائیوں کے لیے استعمال ہونے سے روکیں۔

دفتر خارجہ نے واضح کیا کہ پاکستان اس بزدلانہ حملے کے ذمہ دار عناصر کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ دفتر خارجہ کے مطابق اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیم اور دیگر بین الاقوامی اداروں کی رپورٹس میں بھی افغان سرزمین پر مختلف دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی اور انہیں حاصل سہولتوں کا ذکر کیا گیا ہے۔

دفتر خارجہ نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ مشترکہ ذمہ داری ہے اور افغان طالبان کو اپنے وعدے پورے کرتے ہوئے اپنی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دینی چاہیے۔ دفتر خارجہ کے مطابق بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد اور داعش خراسان (آئی ایس کے پی) کے خلاف ٹھوس اور قابل تصدیق اقدامات کیے جائیں۔

دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان نے برادر اور دوست ممالک کی ثالثی میں افغان طالبان حکومت کے ساتھ کئی مذاکراتی دور بھی کیے، تاہم افغان حکام دہشت گرد تنظیموں کے خلاف مؤثر اقدامات کرنے میں ناکام رہے۔

دفتر خارجہ نے واضح کیا کہ اگر افغان طالبان حکومت دہشت گرد تنظیموں کو پناہ دیتی رہی تو پاکستان اپنی قومی سلامتی اور شہریوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں