جنرل موٹرز کا ٹیکنالوجی عملہ برطرف کرکے مصنوعی ذہانت کے ماہرین کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ

آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ سے سینکڑوں ملازمین کی چھٹی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

گاڑیاں بنانے والی معروف کمپنی جنرل موٹرز نے اپنے انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) ڈیپارٹمنٹ میں بڑے پیمانے پر تنظیم نو کا آغاز کر دیا ہے جس کے تحت 600 سے زائد مستقل ملازمین کو برطرف کر دیا گیا ہے۔ یہ تعداد آئی ٹی ٹیم کے مجموعی عملے کا 10 فیصد سے زائد بنتی ہے۔ یہ اقدام بڑی کمپنیوں کے اندر مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مہارتوں پر تیزی سے بڑھتے ہوئے انحصار کی عکاسی کرتا ہے۔

کمپنی نے ان ملازمین کی برطرفی کی تصدیق کر دی ہے جس کا انکشاف سب سے پہلے بلومبرگ نے کیا تھا۔ کمپنی نے وضاحت کی ہے کہ اس قدم کا مقصد مستقبل کی ضروریات کے مطابق اپنے تکنیکی ڈھانچے کو نئے سرے سے استوار کرنا ہے۔

ٹیک کرنچ کی رپورٹ کے مطابق جسے العربیہ بزنس نے ملاحظہ کیا ہے، ملازمتوں میں اس کمی کے باوجود کمپنی مستقل طور پر عملہ کم نہیں کر رہی بلکہ روایتی مہارتوں کے حامل افراد کی جگہ مصنوعی ذہانت کے ماہرین کو لانا چاہتی ہے۔

بڑے پیمانے پر نئی بھرتیاں

باوثوق ذرائع کے مطابق جنرل موٹرز ٹیکنالوجی کے شعبے میں بھرتیوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے لیکن اب اس کی توجہ نئی مہارتوں پر مرکوز ہے جن میں مصنوعی ذہانت پر مبنی سسٹمز کی تیاری، ڈیٹا انجینئرنگ، اینالیٹکس اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ اسمارٹ ایجنٹس، لسانی ماڈلز (ایل ایل ایم) اور پرومپٹ انجینئرنگ کے ماہرین کو ترجیح دی جا رہی ہے۔

یہ اقدامات ظاہر کرتے ہیں کہ کمپنی ایسے ملازمین کی تلاش میں ہے جو مصنوعی ذہانت کے سسٹمز کو بالکل ابتدا سے تیار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں، جس میں تکنیکی ڈھانچے کی ڈیزائننگ، ماڈلز کی ٹریننگ اور ڈیٹا پراسیسنگ شامل ہے، نہ کہ صرف پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لیے اے آئی ٹولز کا استعمال کرنا۔

گذشتہ 18 ماہ کے دوران کمپنی کئی بار تنظیم نو کے عمل سے گزر چکی ہے۔ اس سے قبل اگست سنہ 2024ء میں بھی سافٹ ویئر کے شعبے سے تقریباً ایک ہزار ملازمین کو فارغ کیا گیا تھا تاکہ وسائل کو ترجیحی منصوبوں بالخصوص مصنوعی ذہانت کی جانب منتقل کیا جا سکے۔

مئی سنہ 2026ء میں اورورا کمپنی کے شریک بانی سٹرلنگ اینڈرسن کی بطور چیف پروڈکٹ آفیسر تعیناتی کے بعد سے کمپنی کے سافٹ ویئر سیکٹر میں بڑی انتظامی تبدیلیاں دیکھنے میں آئی ہیں۔ اینڈرسن نے کمپنی کے بکھرے ہوئے تکنیکی امور کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے پر زور دیا جس کے نتیجے میں سافٹ ویئر اور مصنوعی ذہانت کے شعبے سے کئی اعلیٰ عہدیدار کمپنی چھوڑ گئے۔

اس کے برعکس جنرل موٹرز نے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں نئی اور باصلاحیت ٹیم کو شامل کیا ہے جس میں ایپل سے آنے والے بہراد توغی اور کروز کے سابق چیف آف اے آئی اینڈ روبوٹکس راشد حق شامل ہیں۔

ماہرین کا خیال ہے کہ جنرل موٹرز کے اندر ہونے والی یہ تبدیلیاں اس بات کی واضح مثال ہیں کہ بڑی کمپنیاں کس طرح عملی طور پر مصنوعی ذہانت کو اپنا رہی ہیں۔ اب یہ صرف موجودہ ٹیموں میں نئے ٹولز کے اضافے تک محدود نہیں رہا بلکہ مصنوعی ذہانت کے دور کے تقاضوں کے مطابق افرادی قوت کی مکمل ازسرنو تشکیل ناگزیر ہو گئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں