صحراء النجف میں مشکوک اسرائیلی اڈے کا انکشاف، عراقی سکیورٹی فورسز کی کارروائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

عراق کےصحراء النجف میں اسرائیلی فوج کی جانب سے ایک خفیہ فوجی اڈہ قائم کرنے کی خبروں نے ملک میں سیاسی و عوامی سطح پر ہلچل مچا دی ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہ اڈہ ایران اور امریکہ و اسرائیل کے درمیان چھڑنے والی جنگ کے دوران ایرانی ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا گیا، جس پر اب عراقی حکومت نے باقاعدہ ردعمل ظاہر کر دیا ہے۔ عراقی حکام نے تصدیق کی ہے کہ گذشتہ مارچ میں عراقی فورسز کا نامعلوم گروہ کے ساتھ تصادم ہوا تھا جس کے بعد فضائی کور کی مدد سے ان نامعلوم دستوں کو پسپائی پر مجبور کر دیا گیا۔

حکومت نے پیر کی شام جاری ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ اس وقت عراقی سرزمین پر کوئی غیر ملکی اڈہ یا افواج موجود نہیں ہیں۔


آپریشن ’ خود مختاری کا قیام‘ کا آغاز

عراقی افواج نے حشد شعبی کے ساتھ مل کر منگل کو صحراء النجف اور کربلا میں ’فرضِ سیادت‘ کے نام سے ایک بڑے فوجی آپریشن کا آغاز کیا ہے۔ حشد شعبی میں فرات اوسط آپریشنز کے کمانڈر میجر جنرل علی الحمدانی نے بتایا کہ یہ کارروائی چار مختلف محوروں سے شروع کی گئی ہے جس کا مقصد کربلا اور نخیب کے درمیانی راستے کو محفوظ بنانا ہے۔

انہوں نے مزید وضاحت کی کہ یہ آپریشن مسلح افواج کے کمانڈر انچیف کی ہدایات اور چیف آف آرمی سٹاف جنرل عبد الامیر یار اللہ کی نگرانی میں انجام دیا جا رہا ہے۔

عراقی وزارت دفاع کے مطابق آرمی چیف خود نخیب کے علاقے میں پہنچے ہیں تاکہ دفاعی تیاریوں اور سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لے سکیں۔

عراقی چرواہے کی ایک وسیع پیمانے پر گردش کرنے والی تصویر
عراقی چرواہے کی ایک وسیع پیمانے پر گردش کرنے والی تصویر



نامعلوم فورسز کے ساتھ خونی جھڑپ

عراقی جوائنٹ آپریشنز کمانڈ کے سکیورٹی میڈیا سیل کے سربراہ نے اتوار کے روز کہا تھا کہ عراقی زمین پر کوئی بھی غیر قانونی عسکری فورس موجود نہیں ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ سوشل میڈیا اور بعض چینلز پر کربلا اور النجف کے صحرائی علاقوں میں غیر ملکی فوج کے اترنے کی جو خبریں گردش کر رہی ہیں، وہ دراصل 5 مارچ سنہ 2026ء کو پیش آنے والے ایک واقعے سے متعلق ہیں۔ اس روز عراقی سکیورٹی فورسز کا سامنا نامعلوم مسلح دستوں سے ہوا تھا جس کے نتیجے میں ایک سکیورٹی اہلکار جاں بحق اور دو زخمی ہوئے تھے۔

اسرائیل ی موجودگی کی تفصیلات اور امریکی کوآرڈینیشن

گذشتہ دو روز سے سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیوز وائرل ہیں جن میں عراقی فورسز کو مبینہ اسرائیلی دستوں کے ساتھ دست و گریبان دیکھا جا سکتا ہے۔ ان خبروں میں عواد الشمری نامی ایک چرواہے کی تصویر بھی گردش کر رہی ہے جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اس نے سب سے پہلے اس خفیہ اڈے کی نشاندہی کی اور سکیورٹی اداروں کو مطلع کیا۔



ایک عراقی سکیورٹی اہلکار نے فرانسیسی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ اسرائیلی فوج نے صدام حسین کے دور کے ایک متروکہ رن وے پر یہ اڈہ قائم کیا تھا۔ اگرچہ اب وہاں کوئی فورسز موجود نہیں، تاہم عین ممکن ہے کہ وہ اپنا کچھ سامان پیچھے چھوڑ گئے ہوں۔ اس اہلکار نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ یہ پوری کارروائی امریکہ کے ساتھ مکمل ہم آہنگی کے ذریعے کی گئی۔

اخبار ’وال سٹریٹ جرنل‘ نے امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ اسرائیل نے یہ اڈہ ایران کے قریب قدم جمانے کے لیے بنایا تھا۔ اس تنصیب میں سپیشل فورسز موجود تھیں اور اسے اسرائیلی فضائیہ کے لاجسٹک مرکز کے طور پر استعمال کیا گیا تاکہ جنگ کی صورت میں تلاش اور بچاؤ کی کارروائیاں فوری طور پر عمل میں لائی جا سکیں۔ دوسری جانب بنجمن نیتن یاھو کی حکومت یا اسرائیلی حکام نے اس معاملے پر تاحال مکمل خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں