امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات میں انتہائی مثبت پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاہدے تک پہنچنے کا اچھا موقع موجود ہے۔ انہوں نے اشارہ کیا کہ اگر ایسا معاہدہ ہو جائے جس کے تحت ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے تو واشنگٹن مطمئن ہو گا اور سفارت کاری کو موقع دینے کے لیے حملہ مؤخر کرنے کے فیصلے سے اسرائیل کو بھی آگاہ کر دیا گیا ہے۔ امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایران کو تحریری طور پر یہ عہد کرنا ہوگا کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے ایک ایسے ملک پر قابو پایا ہے جو جوہری ہتھیار حاصل کرنے والا تھا، ہم نے ان کی فوج اور قیادت کو عسکری طور پر تقریباً مکمل تباہ کر دیا ہے۔ ان کے پہلے اور دوسرے درجے کے رہنما جا چکے ہیں اور ہم تیسرے درجے کی نصف قیادت سے نمٹ رہے ہیں۔
ٹرمپ نے بتایا کہ ایران پر مقررہ حملہ سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات کے رہنماؤں کی درخواست کے احترام میں مؤخر کیا گیا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، امیر قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی اور متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ایک ایسا قابل قبول معاہدہ طے پانے کا حقیقی موقع موجود ہے جو خطے کے استحکام اور ایران کو جوہری ہتھیاروں سے روکنے کی ضمانت دے سکے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا حملہ کل کے لیے طے تھا، لیکن اب ہم کل حملہ نہیں کریں گے کیونکہ اس وقت تہران کے ساتھ سنجیدہ مذاکرات جاری ہیں۔
امریکی صدر نے واضح کیا کہ امریکی افواج کو ہدایت کی گئی ہے کہ اگر قابل قبول معاہدہ نہ ہوا تو وہ ایران پر جامع حملے کے لیے تیار رہیں۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر کہا کہ اگر موجودہ سیاسی کوششیں ناکام ہوئیں تو امریکہ دوبارہ حملہ کرنے کے لیے تیار ہے۔ ٹرمپ کا یہ فیصلہ علاقائی جنگ سے بچنے کے لیے سفارتی راستے کو آخری موقع دینے کی کوشش ہے، لیکن واشنگٹن کا فوجی آپشن اب بھی برقرار ہے اور ایران بھی دفاعی طور پر الرٹ ہے۔