ایران جنگ

"منگل کے حملے" کی معطلی کے بعد، ٹرمپ کی ایران کے ساتھ "مثبت پیش رفت" پر گفتگو

خلیجی ثالثی نے سفارت کاری کو موقع دینے کے لیے حملے کو مؤخر کرا دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات میں انتہائی مثبت پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاہدے تک پہنچنے کا اچھا موقع موجود ہے۔ انہوں نے اشارہ کیا کہ اگر ایسا معاہدہ ہو جائے جس کے تحت ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے تو واشنگٹن مطمئن ہو گا اور سفارت کاری کو موقع دینے کے لیے حملہ مؤخر کرنے کے فیصلے سے اسرائیل کو بھی آگاہ کر دیا گیا ہے۔ امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایران کو تحریری طور پر یہ عہد کرنا ہوگا کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے ایک ایسے ملک پر قابو پایا ہے جو جوہری ہتھیار حاصل کرنے والا تھا، ہم نے ان کی فوج اور قیادت کو عسکری طور پر تقریباً مکمل تباہ کر دیا ہے۔ ان کے پہلے اور دوسرے درجے کے رہنما جا چکے ہیں اور ہم تیسرے درجے کی نصف قیادت سے نمٹ رہے ہیں۔

ٹرمپ نے بتایا کہ ایران پر مقررہ حملہ سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات کے رہنماؤں کی درخواست کے احترام میں مؤخر کیا گیا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، امیر قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی اور متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ایک ایسا قابل قبول معاہدہ طے پانے کا حقیقی موقع موجود ہے جو خطے کے استحکام اور ایران کو جوہری ہتھیاروں سے روکنے کی ضمانت دے سکے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا حملہ کل کے لیے طے تھا، لیکن اب ہم کل حملہ نہیں کریں گے کیونکہ اس وقت تہران کے ساتھ سنجیدہ مذاکرات جاری ہیں۔

امریکی صدر نے واضح کیا کہ امریکی افواج کو ہدایت کی گئی ہے کہ اگر قابل قبول معاہدہ نہ ہوا تو وہ ایران پر جامع حملے کے لیے تیار رہیں۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر کہا کہ اگر موجودہ سیاسی کوششیں ناکام ہوئیں تو امریکہ دوبارہ حملہ کرنے کے لیے تیار ہے۔ ٹرمپ کا یہ فیصلہ علاقائی جنگ سے بچنے کے لیے سفارتی راستے کو آخری موقع دینے کی کوشش ہے، لیکن واشنگٹن کا فوجی آپشن اب بھی برقرار ہے اور ایران بھی دفاعی طور پر الرٹ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں