ایران جنگ

امریکہ اور ایران کے بیچ دھمکیوں کا تبادلہ ... ہم جنگ جلد از جلد ختم کر دیں گے : ٹرمپ

ٹرمپ کے مطابق وہ حملے دوبارہ شروع کرنے سے صرف ایک گھنٹہ دور تھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 8 منٹ

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز وائٹ ہاؤس میں "کانگریس پکنک" کی سالانہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن ایران کے ساتھ جنگ جلد از جلد ختم کرے گا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ وہ ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے۔ اس سے قبل ٹرمپ نے متنبہ کیا تھا کہ امریکہ ایران پر نیا حملہ کر سکتا ہے، جبکہ انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان معاہدے کی راہ ہموار کرنے کے لیے انہوں نے ایک بڑے حملے کو روک دیا تھا۔ دوسری طرف ایرانی فوج نے دھمکی دی ہے کہ اگر امریکہ نے ایسا کیا تو وہ "نئے محاذ" کھول دیں گے۔

ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں کو بتایا کہ وہ ایران پر واشنگٹن کے حملے دوبارہ شروع کرنے کے حکم کو مؤخر کرنے سے پہلے اس سے صرف "ایک گھنٹہ" دور تھے۔ رواں سال 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے شروع کیے گئے حملوں کے تقریباً 40 روز بعد، 8 اپریل سے جنگ بندی نافذ ہونے کے بعد سے ایک معاہدے تک پہنچنے کی کوششوں کے لیے رابطے جاری ہیں۔ تاہم واشنگٹن اور تہران کے موقف میں خاص طور پر ایٹمی معاملے کے حوالے سے اب بھی بہت بڑا فاصلہ ہے۔

ٹرمپ نے کہا کہ آپ جانتے ہیں کہ کسی ایسے ملک کے ساتھ مذاکرات کیسے ہوتے ہیں جسے آپ سخت شکست دے رہے ہوں، وہ مذاکرات کی میز پر آتے ہیں اور معاہدے کے لیے گڑگڑاتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مجھے امید ہے کہ ہمیں دوبارہ جنگ نہیں لڑنی پڑے گی، لیکن ہمیں ان پر ایک اور بڑا حملہ کرنا پڑ سکتا ہے، میں ابھی اس بارے میں یقین سے نہیں کہہ سکتا۔

ایرانی فوج کے ترجمان محمد اکرمی نیا نے خبردار کیا تھا کہ اگر امریکہ نے اپنے حملے دوبارہ شروع کیے تو ان کا ملک امریکہ کے خلاف نئے محاذ کھول دے گا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایرانی فوج جنگ بندی کے دورانیے کو جنگ کا ہی ایک مرحلہ سمجھتی ہے اور اس نے اپنی جنگی صلاحیتوں کو مضبوط کرنے کے لیے اس موقع سے فائدہ اٹھایا ہے۔

امریکی صدر نے معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں حملے دوبارہ شروع کرنے کے لیے چند دنوں کی مہلت مقرر کی ہے۔ انہوں نے دو یا تین دن، شاید جمعہ، ہفتہ یا اتوار، یا پھر اگلے ہفتے کے آغاز کی ایک محدود مدت کی طرف اشارہ کیا۔ ٹرمپ نے پیر کے روز اعلان کیا تھا کہ انہوں نے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر کے رہنماؤں کی درخواست پر ایران پر ایک نیا حملہ آخری لمحات میں مؤخر کیا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ تہران کے ساتھ معاہدے کے "بہت اچھے مواقع" موجود ہیں۔ لیکن انہوں نے واضح کیا کہ معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں انہوں نے امریکی فوج کو کسی بھی لمحے ایران پر مکمل اور بڑے پیمانے پر حملہ کرنے کے لیے تیار رہنے کی ہدایات دی ہیں۔ ٹرمپ نے جنگ بندی میں غیر معینہ مدت کے لیے توسیع کی تھی اور اشارہ دیا تھا کہ وہ ایک ایسی جنگ سے نکلنا چاہتے ہیں جو سیاسی طور پر بوجھ ثابت ہو رہی ہے، کیونکہ آبنائے ہرمز پر ایران کے کنٹرول کی وجہ سے عالمی معیشت میں خلل پڑا ہے اور ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے امریکیوں کو نقصان پہنچا ہے۔

ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے منگل کے روز ایکس پلیٹ فارم پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ اپنے بیانات میں دھمکی کو امن کے موقع کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔

گذشتہ ماہ11 اپریل کو اسلام آباد میں امریکی اور ایرانی نمائندوں کے درمیان مذاکرات کا ایک دور ہوا تھا جو کسی معاہدے کے بغیر ختم ہو گیا۔ ایران نے معاہدے کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ کی پیشکشوں کو بارہا مسترد کیا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز پر اس کے کنٹرول کی وجہ سے عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں شدید اضافہ ہوا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پاکستانی ثالث کے ذریعے امریکہ کے ساتھ رابطے کی تصدیق کی اور کہا کہ ایران نے اپنے خدشات کا واضح اظہار کر دیا ہے۔

دوسری طرف متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع نے اعلان کیا ہے کہ اتوار کے روز براکہ نیوکلیئر پاور پلانٹ کے ارد گرد کو نشانہ بنانے والے ڈرونز کا منبع عراقی سرزمین تھی۔ وزارت نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ 17 مئی 2026 کو براکہ نیوکلیئر پاور پلانٹ پر ہونے والے حملے کی تحقیقات کے فریم ورک کے تحت تکنیکی نگرانی کے نتائج سے تصدیق ہوئی ہے کہ تینوں ڈرونز عراقی سرزمین سے آئے تھے۔ ایک اماراتی اہل کار نے اسلامی جمہوریہ کا نام لیے بغیر ایران کے براہ راست یا بالواسطہ کردار کی طرف اشارہ کیا تھا۔ یہ اس وقت ہوا جب ایرانی پاسداران انقلاب نے خبردار کیا تھا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والی انٹرنیٹ کی فائبر آپٹک کیبلز کو پرمٹ سسٹم کے تابع کیا جا سکتا ہے۔ پیر کے روز پاسداران انقلاب نے عراق کی سرحد کے قریب مغربی ایران کے صوبے کردستان میں امریکہ اور اسرائیل سے وابستہ گروپوں کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا۔ اس حوالے سے ایک بیان میں کہا گیا کہ شمالی عراق سے آنے والے یہ گروپ امریکہ اور اسرائیل کے لیے کام کر رہے تھے اور امریکی ہتھیاروں اور گولہ بارود کی ایک بڑی کھیپ ایران اسمگل کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

قطر نے منگل کے روز تصدیق کی کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کو کسی نتیجے تک پہنچنے کے لیے مزید وقت درکار ہے۔ قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے دوحہ میں ایک پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ ہم سفارتی راستے کی مکمل حمایت کرتے ہیں اور پاکستان کی سفارتی کوششوں کی بھی حمایت کرتے ہیں جس نے فریقین کو قریب لانے اور حل تلاش کرنے میں سنجیدگی دکھائی ہے ... اور ہمارا ماننا ہے کہ اس معاملے کو مزید وقت چاہیے۔

ایران نے پیر کے روز اعلان کیا کہ اس نے جنگ ختم کرنے کے مقصد سے تیار کی گئی ایک نئی امریکی تجاویز کا جواب دے دیا ہے، جبکہ ایرانی میڈیا رپورٹس میں امریکی مطالبات کو حد سے زیادہ اور کسی بھی رعایت سے خالی قرار دیا گیا ہے۔ اتوار کے روز ایرانی خبر رساں ایجنسی فارس نے بتایا کہ واشنگٹن نے پانچ نکات پیش کیے ہیں جن میں خاص طور پر یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ ایران صرف ایک ایٹمی تنصیب اپنے پاس رکھے اور افزودہ یورینیم کا اپنا ذخیرہ امریکہ منتقل کر دے۔ فارس کے مطابق واشنگٹن نے بیرون ملک منجمد ایرانی اثاثوں کو 25 فی صد تک بھی بحال کرنے یا جنگ کے دوران ایران کو پہنچنے والے نقصانات کا کوئی معاوضہ دینے سے انکار کر دیا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکہ دشمنی اسی وقت روکے گا جب تہران با ضابطہ امن مذاکرات کا آغاز کرے گا۔ لیکن ایران اپنے مطالبات پر اصرار کر رہا ہے، جن میں منجمد اثاثوں کی بحالی، عائد پابندیوں کا خاتمہ اور جنگی نقصانات کا معاوضہ شامل ہے۔ پیر کے روز ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم نے ایرانی مذاکراتی وفد کے قریبی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ سابقہ متن کے برعکس، امریکیوں نے نئے متن میں مذاکرات کی مدت کے دوران تیل کی پابندیوں کو معطل کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں