ایوانکا ٹرمپ کے قتل کے منصوبے کی خبریں ... گھر کی تصویر جاری کی گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

عراقی حزب اللہ بریگیڈز کے رہنما محمد باقر السعدی کی امریکی افواج کے ہاتھوں ترکیہ میں گرفتاری کے کئی دن گزرنے کے بعد، با خبر ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بیٹی ایوانکا قاتلانہ حملے کا ہدف تھیں۔

ذرائع نے واضح کیا کہ 32 سالہ السعدی نے ایرانی پاسداران انقلاب سے ایوانکا کو قتل کرنے کا عہد کیا تھا، بلکہ اخبار "نیویارک پوسٹ" کے مطابق اس کے پاس فلوریڈا میں ان کے گھر کا نقشہ بھی موجود تھا۔

ذرائع نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ عراقی رہنما چھ سال قبل بغداد میں ایک امریکی ڈرون حملے میں قدس فورس کے کمانڈر قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے جواب میں ٹرمپ کے خاندان کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہا تھا۔

اہیکس پر مشتہر سعدی اور سلیمانی کی تصویر
اہیکس پر مشتہر سعدی اور سلیمانی کی تصویر

واشنگٹن میں عراقی سفارت خانے کے سابق نائب عسکری اتاشی انتفاض قنبر نے اخبار کو بتایا "سلیمانی کی ہلاکت کے بعد، السعدی اپنے ارد گرد کے لوگوں سے کہا کرتا تھا کہ ایوانکا کو قتل کیا جانا چاہیے اور ٹرمپ کا گھر جلا دیا جانا چاہیے جیسے اس نے ہمارا گھر جلایا ہے"۔

انہوں نے مزید کہا "ہم نے سنا ہے کہ اس کے پاس فلوریڈا میں ایوانکا کے گھر کا نقشہ تھا"۔ ایک دوسرے ذریعے نے بھی ایوانکا کو قتل کرنے کے السعدی کے منصوبے کی تصدیق کی ہے۔

اس کے علاوہ السعدی نے 2021 میں "ایکس" پلیٹ فارم پر اپنے اکاؤنٹ پر ایک نقشہ پوسٹ کیا تھا، جس میں فلوریڈا کا وہ رہائشی علاقہ دکھایا گیا تھا جہاں ایوانکا اور ان کے شوہر جیرڈ کشنر کا 2.4 کروڑ ڈالر کا گھر واقع ہے، اس کے ساتھ عربی زبان میں ایک دھمکی بھی لکھی تھی جس میں کہا گیا تھا "میں امریکیوں سے کہتا ہوں کہ اس تصویر کو دیکھیں اور جان لیں کہ نہ آپ کے محلات اور نہ سکیورٹی سروس آپ کو بچا سکے گی... ہم اب نگرانی اور تجزیے کے مرحلے میں ہیں۔ میں نے آپ سے کہا تھا کہ ہمارا انتقام وقت کی بات ہے"۔

ایکس پر سعدی کا پیغام اور ایوانکا کے گھر کا نقشہ
ایکس پر سعدی کا پیغام اور ایوانکا کے گھر کا نقشہ

مزید برآں قنبر نے انکشاف کیا کہ السعدی قدس فورس کے ایرانی کمانڈر قاسم سلیمانی کے بہت قریب تھا اور اسے اپنے والد کی طرح سمجھتا تھا۔ خاص طور پر 2006 میں اپنے والد احمد کاظمی جو ایک ایرانی بریگیڈیئر جنرل تھا، کی وفات کے بعد۔

ترجمان نے واضح کیا کہ السعدی بغداد میں پلا بڑھا اور بنیادی طور پر اس کی عراقی والدہ نے اس کی تربیت کی لیکن بعد میں اسے پاسداران انقلاب سے تربیت حاصل کرنے کے لیے تہران بھیج دیا گیا تھا۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ "السعدی نے بعد میں مذہبی سفر کے لیے مخصوص ایک ٹریول کمپنی قائم کی، جس نے اسے دہشت گرد گروہوں سے رابطے کے لیے دنیا بھر کا سفر کرنے کی سہولت دی"۔

اس تیس سالہ شخص کو 15 مئی کو ترکیہ میں گرفتار کیا گیا تھا اور امریکہ کے حوالے کر دیا گیا تھا، جہاں وزارت انصاف کے مطابق اسے یورپ اور امریکہ میں 18 حملے کرنے اور حملوں کی کوششوں کے الزامات کا سامنا ہے۔

وزارت انصاف نے اس پر امریکی اور یہودی اہداف پر حملوں کے پیچھے ملوث ہونے کا بھی الزام لگایا ہے۔ ان میں گذشتہ مارچ میں ایمسٹرڈیم میں "نیویارک میلن" بینک پر پیٹرول بم پھینکنا، اپریل میں لندن میں دو یہودی متاثرین کو چاقو مارنا اور مارچ ہی میں ٹورنٹو میں امریکی قونصلیٹ کی عمارت پر فائرنگ کرنا شامل ہے۔

اخبار کے مطابق ترکیہ میں اپنی گرفتاری کے وقت اس کے پاس عراقی سروس پاسپورٹ تھا، جو کہ ایک خصوصی سفری دستاویز ہے جو سرکاری ملازمین کو دی جاتی ہے اور عراقی وزیر اعظم کی منظوری کے بغیر حاصل نہیں کی جا سکتی۔ اس پاسپورٹ نے السعدی کوعراقی ہوائی اڈوں پر آسانی اور محدود سکیورٹی چیکنگ کے ساتھ سفر کرنے اور وی آئی پی لاؤنجز استعمال کرنے کی اجازت دی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں