امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ کسی بھی ممکنہ معاہدے میں اپنی سرخ لکیروں پر قائم رہتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اعلیٰ درجے کی افزودہ یورینیم کی ایران سے منتقلی، جوہری پروگرام کا معاملہ اور آبنائے ہرمز کا کھلنا بنیادی شرائط میں شامل ہیں۔
امریکی ویب سائٹ ایکسیوس کے مطابق امریکی انتظامیہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار اور ایک دوسرے باخبر ذریعے نے اتوار کے روز بتایا کہ ٹرمپ نے گزشتہ جمعے کو صورتحال کے کمرے (Situation Room) میں اپنے نمائندوں اور ایرانی حکام کے درمیان طے پانے والے ابتدائی فریم ورک معاہدے میں کئی ترامیم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق ٹرمپ کی جانب سے ان تبدیلیوں کے مطالبے کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان مذاکرات کا ایک نیا مرحلہ شروع ہو گیا ہے، جو کئی روز تک جاری رہ سکتا ہے۔
یورینیم سے متعلق مزید تفصیلات کا مطالبہ
ذرائع کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی ٹیم کو ہدایت دی ہے کہ ایرانی جوہری پروگرام سے متعلق مسودۂ معاہدے کی شقوں میں مزید ترامیم شامل کی جائیں۔
ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار نے بتایا کہ معاملہ اعلیٰ درجے کی افزودہ یورینیم کے ذخائر امریکہ کے حوالے کرنے کے طریقہ کار اور اس کے وقتِ کار سے متعلق مزید وضاحتوں کا ہے۔
دوسری جانب ایک اور ذریعے نے بتایا کہ ٹرمپ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے سے متعلق بعض شقوں کی عبارت میں بھی تبدیلیاں چاہتے ہیں۔
امریکی عہدیدار کے مطابق ٹرمپ کو آگاہ کیا گیا ہے کہ ایرانی جواب آنے میں تقریباً تین دن لگ سکتے ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا:وہ لفظی طور پر غاروں میں ہیں اور ای میل استعمال نہیں کرتے۔
انہوں نے مزید کہا:معاہدہ ہو جائے گا، لیکن اس کا وقت ابھی طے نہیں۔ ہم انتظار کرنے کے لیے تیار ہیں جب تک صدر اپنی مطلوبہ شرائط حاصل نہیں کر لیتے۔ اس میں ایک ہفتہ، اس سے کم یا زیادہ وقت بھی لگ سکتا ہے۔ امید ہے کہ ہفتے کے آغاز تک کوئی پیش رفت سامنے آ جائے گی۔
یاد رہے کہ پہلے سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق مجوزہ معاہدے کے موجودہ مسودے میں ایران نے جوہری ہتھیار حاصل نہ کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے، تاہم اس کے بدلے میں دی جانے والی رعایتوں یا عملی اقدامات کی واضح تفصیل شامل نہیں۔
مسودے میں یہ بھی تجویز دی گئی ہے کہ ایران کی جوہری ذمہ داریوں اور امریکی پابندیوں میں نرمی کے معاملے پر 60 روزہ مذاکراتی مدت رکھی جائے، جبکہ ابتدائی بات چیت میں افزودہ یورینیم کے ذخائر کو ختم کرنے اور یورینیم کی افزودگی محدود کرنے کے طریقہ کار پر توجہ دی جائے گی۔
یورینیم اور آبنائے ہرمز پر ٹرمپ کی نئی ترامیم
ذرائع کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی ٹیم کو ایرانی جوہری پروگرام سے متعلق مجوزہ معاہدے کی شقوں میں تبدیلیاں کرنے کی ہدایت دی ہے۔
ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار نے بتایا کہ یہ معاملہ اعلیٰ درجے کی افزودہ یورینیم کی مقدار امریکہ کے حوالے کرنے کے طریقۂ کار اور اس کے وقت کے تعین سے متعلق مزید تفصیلات کا ہے۔
دوسرے ذرائع کے مطابق ٹرمپ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے سے متعلق بعض شقوں کی عبارت میں بھی ترمیم چاہتے ہیں۔
امریکی عہدیدار نے مزید بتایا کہ ٹرمپ کو آگاہ کیا گیا ہے کہ ایرانی فریق کی جانب سے جواب آنے میں تقریباً تین دن لگ سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا:وہ لفظی طور پر غاروں میں ہیں اور ای میل استعمال نہیں کرتے۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ معاہدہ ہو جائے گا، لیکن اس کا وقت ابھی طے نہیں۔
ہم اس وقت تک انتظار کرنے کے لیے تیار ہیں جب تک صدر اپنی مطلوبہ شرائط حاصل نہیں کر لیتے۔ اس میں ایک ہفتہ، اس سے کم یا زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ہفتے کے آغاز تک کوئی پیش رفت سامنے آ جائے گی۔
اس سے قبل ذرائع نے بتایا تھا کہ موجودہ مسودۂ معاہدے میں ایران نے جوہری ہتھیار حاصل نہ کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے، تاہم اس کے بدلے میں دی جانے والی رعایتوں یا اقدامات کی واضح تفصیلات شامل نہیں ہیں۔
مسودے میں یہ بھی تجویز دی گئی ہے کہ ایران کی جوہری ذمہ داریوں اور امریکی پابندیوں میں نرمی سے متعلق معاملات پر 60 روز تک مذاکرات کیے جائیں۔
ان مذاکرات کا آغاز افزودہ یورینیم کے ذخائر کو ختم کرنے اور یورینیم کی افزودگی محدود کرنے کے طریقۂ کار پر گفتگو سے ہوگا۔
دوسری جانب ایرانی سرکاری ذرائع ابلاغ نے چند روز قبل دعویٰ کیا تھا کہ ایران کو بیرونِ ملک منجمد اربوں ڈالر مالیت کے اثاثے واپس مل جائیں گے، تاہم وائٹ ہاؤس نے اس دعوے کی تردید کر دی۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے گزشتہ جمعے اعلان کیا تھا کہ وہ مجوزہ معاہدے پر غور کے لیے صورتحال کے کمرے (Situation Room) میں ایک اجلاس منعقد کریں گے، اس وقت وہ معاہدے کی منظوری کی جانب مائل دکھائی دے رہے تھے۔
تاہم اجلاس کے بعد وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے صحافیوں کو بتایا کہ ٹرمپ صرف ایسا معاہدہ کریں گے ،جو امریکہ کے مفادات کے مطابق ہو، ان کی سرخ لکیروں پر پورا اترے اور اس بات کی ضمانت دے کہ تہران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔
ادھر ایرانی حکام نے بھی سرکاری میڈیا کو بتایا تھا کہ انہوں نے ابھی تک معاہدے کے حتمی متن کی منظوری نہیں دی۔یہ تمام پیش رفت پاکستان اور قطر کی ثالثی میں دونوں ممالک کے درمیان کئی ہفتوں سے جاری بالواسطہ مذاکرات کے بعد سامنے آئی ہے۔
اسی دوران 13 اپریل سے امریکہ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں پر سخت دباؤ اور پابندیاں برقرار ہیں، جو اسلام آباد میں ہونے والے براہِ راست ایرانی-امریکی مذاکرات کی ناکامی کے بعد مزید شدت اختیار کر گئی تھیں۔
دوسری طرف جنگ شروع ہونے کے بعد سے ایرانی افواج کی جانب سے تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں کے باعث اہم آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت مسلسل متاثر ہو رہی ہے، جس سے عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل پر بھی اثرات مرتب ہونے کے خدشات موجود ہیں۔