لبنان کے معاملے پر ٹرمپ نیتن یاھو سے برہم ،فون پر اسرائیلی وزیراعظم کو"پاگل" کہہ دیا

امریکی صدر کا اسرائیلی وزیر اعظم پر ایران کے ساتھ مذاکرات سبوتاژ کرنےکا الزام:امریکی میڈیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

باخبر امریکی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو کو گذشتہ روز پیر کو ان کے درمیان ہونے والی ایک کشیدہ ٹیلی فونک گفتگو کے دوران شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ یہ گفتگو لبنان میں اسرائیلی فوجی تصیعد کے پس منظر میں ہوئی جو ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس واپسی کے بعد دونوں رہنماؤں کے درمیان اب تک کی سب سے زیادہ کشیدہ ترین بات چیت ہے۔

ایکسیس ویب سائٹ کی شائع کردہ ایک رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے مکالمے کے دوران سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے بنجمن نیتن یاھو کو ’پاگل‘ قرار دیا اور حزب اللہ کے خلاف اسرائیلی فوجی کارروائیوں کو وسعت دینے پر اپنے شدید غصے کا اظہار کیا کیونکہ ان کے خیال میں اس سے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات ناکام ہونے کا خطرہ ہے۔

ویب سائٹ نے ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ ٹرمپ نے بنجمن نیتن یاھو کو متنبہ کیا کہ لبنانی دارالحکومت بیروت پر بمباری کی دھمکیوں پر عمل درآمد اسرائیل کو بین الاقوامی سطح پر مزید تنہائی کا شکار کر دے گا۔ جبکہ دو باخبر ذرائع نے بتایا کہ امریکی صدر نے بنجمن نیتن یاھو کو کرپشن کے مقدمات میں ان کے ٹرائل کے دوران اپنی سیاسی حمایت کی یاد دہانی بھی کرائی اور کہا کہ اسرائیلی وزیر اعظم اس حمایت کی قدر نہیں کر رہے۔

ذرائع کے مطابق ٹرمپ اس بات سے بخوبی واقف تھے کہ حزب اللہ نے اسرائیلی اہداف پر حملے کیے ہیں اور اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے تاہم ان کا خیال تھا کہ گذشتہ چند دنوں کے دوران اسرائیلی حکومت کا ردعمل حد سے زیادہ اور غیر متناسب جارحیت کا حامل رہا،امریکہ نے خصوصاً جنوبی لبنان میں زمینی کارروائیوں کو وسعت دینے اور بڑی تعداد میں سویلین ہلاکتوں کے حوالے سے اسرائیلی اقدامات پر سخت رد عمل ظاہر کیا۔

دوسری طرف امریکی صدر نے حزب اللہ کے صرف ایک رہنما کو نشانہ بنانے کے لیے پوری عمارتوں کو تباہ کرنے کی پالیسی پر بھی اعتراض کیا اور یہ موقف اپنایا کہ یہ آپریشنز امریکی مفادات کو نقصان پہنچاتے ہیں اور تہران کے ساتھ سفارتی عمل کو مزید پیچیدہ بنا دیتے ہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ ٹرمپ اس گفتگو کے دوران اسرائیل کو اس منصوبے پر عمل کرنے سے باز رکھنے میں کامیاب رہے جس کا مقصد بیروت کے اندر حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانا تھا۔ بعد میں ایک اسرائیلی عہدیدار نے بھی تصدیق کی کہ اسرائیلی فوج اب ان حملوں کا ارادہ نہیں رکھتی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا غصہ براہ راست ان کے اس خوف سے جڑا ہوا تھا کہ لبنان میں کشیدگی امریکہ ۔ایران مذاکرات کے خاتمے کا سبب بن سکتی ہے خصوصاً جب تہران نے اسرائیلی فوجی کارروائیوں کی وجہ سے پہلے ہی مذاکرات سے الگ ہونے کی دھمکی دی تھی۔

اس گفتگو کے بعد ٹرمپ نے مذاکرات کے مستقبل کے بارے میں عوام کو مطمئن کرنے کی کوشش کی اور ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم پر اس بات کی تصدیق کی کہ ایران کے ساتھ بات چیت اب بھی تیز رفتاری سے جاری ہے۔

دوسری جانب بنجمن نیتن یاھو نے ایک بیان جاری کیا جس میں انہوں نے تصدیق کی کہ انہوں نے ٹرمپ کو بتا دیا ہے کہ اگر اسرائیل پر حزب اللہ کے حملے جاری رہے تو اسرائیل بیروت میں ٹھکانوں کو نشانہ بنانا جاری رکھے گا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان کی حکومت کا موقف تبدیل نہیں ہوا اور جنوبی لبنان میں فوجی کارروائیاں جاری رہیں گی۔

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان زیر بحث مفاہمت کے مسودے میں لبنان میں لڑائی کے خاتمے کی شق شامل ہے۔ یہ وہ فائل ہے جو گذشتہ مہینوں میں ٹرمپ اور بنجمن نیتن یاھو کے درمیان اختلافات اور کشیدہ رابطوں کی وجہ بنی تھی۔

یاد رہے کہ یہ جنگ گذشتہ دو مارچ کو اس وقت شروع ہوئی تھی جب ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے پہلے حملوں میں سابق ایرانی رہنما علی خامنہ ای کی ہلاکت کے ردعمل میں حزب اللہ نے اسرائیل پر میزائل داغے تھے۔ اس کے جواب میں اسرائیل نے اپنی شمالی سرحد سے متصل جنوبی لبنان کے علاقوں میں بڑے پیمانے پر فضائی حملوں اور زمینی جارحیت کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں