امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات اب بھی جاری ہیں اور چند روز قبل دونوں فریقوں کے درمیان مذاکرات کی معطلی کے بارے میں آنے والی رپورٹس جھوٹی اور گمراہ کن ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم پر لکھا: "وہ جھوٹی خبریں جن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران اور ریاستہائے متحدہ امریکہ کے درمیان چند روز قبل رابطہ منقطع ہو گیا تھا، بالکل جھوٹی اور گمراہ کن ہیں"۔
انہوں نے مزید کہاکہ "ہمارے درمیان بات چیت کا سلسلہ جاری ہے، جس میں چار دن پہلے، تین دن پہلے، دو دن پہلے، ایک دن پہلے اور آج کا دن بھی شامل ہے. کوئی نہیں جانتا کہ ان مذاکرات کا انجام کیا ہوگا، لیکن جیسا کہ میں نے ایران سے کہا ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ جلد یا بہ دیر ایک معاہدہ کر لیا جائے. یہ صورتحال 47 سال سے جاری ہے اور اسے مزید برقرار رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی"۔
اس سے قبل ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی "تسنیم" نے رپورٹ کیا تھا کہ تہران نے امریکہ کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات اس وقت معطل کر دیے جب اسرائیل نے اپنی افواج کو لبنان میں مزید آگے بڑھنے کا حکم دیا۔
خاموشی بہت بہتر رہے گی
اس رپورٹ کے سامنے آنے کے بعد میڈیا ذرائع کو دیے گئے فون انٹرویوز میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ انہیں واشنطن کے ساتھ مذاکرات معطل کرنے کے ایرانی فیصلے کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے این بی سی نیوز نیٹ ورک کو دیے گئے ایک انٹرویو میں وضاحت کی۔ "انہوں نے ہمیں اس بارے میں مطلع نہیں کیا"۔ انہوں نے مزید کہا کہ دونوں فریقوں کے درمیان خاموشی مناسب رہے گی اور وہ انتظار کرنے کے لیے تیار ہیں۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ "اگر آپ سچ جاننا چاہتے ہیں تو میرے خیال میں ہم نے بہت زیادہ باتیں کر لی ہیں.. میرا ماننا ہے کہ اب خاموشی بہت بہتر رہے گی اور یہ طویل عرصے تک برقرار رہ سکتی ہے"۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹ ورک کو یقین دہانی کرائی کہ مذاکرات کی معطلی کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ امریکہ نے ایران پر بمباری شروع کر دی ہے، انہوں نے واضح کیا کہ ایرانی بندرگاہوں کا امریکی محاصرہ بدستور قائم رہے گا۔