فٹبال ورلڈ کپ 2026 اپنی تاریخ کا سب سے بڑا ایڈیشن ہونے جا رہا ہے، جس کی میزبانی امریکا، کینیڈا اور میکسیکو مشترکہ طور پر کریں گے۔
اس ٹورنامنٹ میں 48 ٹیمیں شرکت کریں گی اور مجموعی طور پر 104 میچ کھیلے جائیں گے، تاہم حیران کن بات یہ ہے کہ خود امریکا میں اس ایونٹ کے لیے دلچسپی توقعات سے کہیں کم دکھائی دے رہی ہے۔
ایک حالیہ سروے کے مطابق تقریباً دو تہائی امریکی شہری ورلڈ کپ 2026 دیکھنے کا ارادہ نہیں رکھتے، جبکہ صرف 14 فیصد افراد نے ٹورنامنٹ میں حقیقی دلچسپی ظاہر کی ہے۔
یہ اعداد و شمار اس سوال کو جنم دیتے ہیں کہ دنیا کے سب سے بڑے فٹبال ایونٹ کے تاریخی ایڈیشن کو امریکا میں کتنی عوامی پذیرائی ملے گی۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ عالمی سطح پر غیر معمولی اہمیت رکھنے والی یہ چیمپئن شپ امریکا کے اندر ایک مقامی یا قومی کھیلوں کے تہوار کے بجائے کسی حد تک ''بیرونی ایونٹ'' کے طور پر دیکھی جا رہی ہے، جس کی مقبولیت ابھی تک وسیع عوامی سطح پر نمایاں نظر نہیں آتی۔
امریکی فٹبال لیگ (MLS) کی تجارتی کامیابیوں اور عالمی شہرت یافتہ کھلاڑیوں کو اپنی جانب متوجہ کرنے کے باوجود، ورلڈ کپ کے لیے عوامی جوش و خروش پیدا کرنے میں اب بھی بڑی حد تک تارکینِ وطن برادریوں کا کردار نمایاں سمجھا جاتا ہے۔
ٹورنامنٹ کی غیر معمولی وسعت اور نسبتاً کم عوامی دلچسپی کے درمیان یہ فرق اس بات پر سوالات اٹھاتا ہے کہ دنیا کے سب سے بڑے کھیلوں کے مقابلے کے لیے امریکا جیسے اہم ہدفی بازار میں تجارتی، اشتہاری اور نشریاتی آمدنی کی توقعات کس حد تک پوری ہو سکیں گی۔
تاہم امریکی تحقیقی ادارے پیو ریسرچ سینٹر کے مطابق سروے کے نتائج وقت گزرنے کے ساتھ تبدیل بھی ہو سکتے ہیں۔
ادارے نے ایک سابقہ سروے (2023) کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ امریکا میں امریکن فٹبال (NFL) سب سے مقبول کھیل ہے، جسے 53 فیصد بالغ افراد پسند کرتے ہیں، جبکہ صرف 3 فیصد امریکیوں نے فٹبال (ساکر) کو اپنی پسندیدہ کھیل قرار دیا تھا۔