ٹرمپ ترکیہ میں نیٹو کے آئندہ سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے: امریکہ

امریکی صدر نے نیٹو اتحاد کو بارہا کاغذی شیر قرار دیا اور اتحاد سے نکلنے کی دھمکی دے رکھی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اعلان کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ جولائی میں ترکیہ میں ہونے والے شمالی اوقیانوس کے معاہدے کی تنظیم (نیٹو) کے اگلے سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے۔ یہ ایک ایسی تصدیق ہے جس سے اتحاد کے ممالک میں وسیع پیمانے پر اطمینان پیدا ہوگا۔ اگرچہ امریکی صدور عام طور پر نیٹو سربراہی اجلاسوں میں شرکت کے خواہشمند ہوتے ہیں کیونکہ واشنگٹن اس اتحاد کا سربراہ ہے لیکن اس سال ٹرمپ کی شرکت کے بارے میں سوالات اٹھائے گئے تھے کیونکہ انہوں نے ایران کے ساتھ جنگ میں امریکہ کی مدد کرنے میں نیٹو کی ہچکچاہٹ پر بارہا اپنی ناراضی کا اظہار کیا تھا۔

بدھ کے روز کانگریس کے سامنے ایک سماعت کے دوران روبیو نے ٹرمپ کی مایوسیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی ناراضی کی بنیادی وجہ کچھ ارکان کی جانب سے بحران کے وقت ان ممالک میں امریکہ کو اپنے فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دینے سے انکار کرنا ہے۔ روبیو نے کہا کہ ٹرمپ، اتحاد سے مایوسی کے باوجود، اجلاس میں شرکت کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اب بھی نیٹو کا رکن ہے اور ہم ان تمام موضوعات پر بحث کرنے کے لیے ترکیہ میں موجود ہوں گے۔ صدر خود نیٹو ممالک کے سربراہوں کے اگلے اجلاس میں شرکت کریں گے جہاں ان تمام نکات کو واضح کیا جائے گا۔

نیٹو کے کئی رکن ممالک نے ایران کے خلاف امریکی فوجی مہم کی حمایت کی مزاحمت کی جس کے لیے انہوں نے امریکی فوجی طیاروں کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے سے روکا، یا آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے میں مدد کے لیے بحری افواج بھیجنے سے انکار کیا۔

کاغذی شیر

ٹرمپ نے بارہا اس اتحاد کو کاغذی شیر قرار دیا ہے۔ حالیہ ہفتوں میں 32 رکنی اتحاد سے الگ ہونے کی دھمکی دی ہے۔ ان کا یہ استدلال ہے کہ واشنگٹن کے یورپی اتحادیوں نے امریکی سکیورٹی ضمانتوں پر بھروسہ کیا جبکہ ایران میں امریکہ اور اسرائیل کی بمباری کی مہم کے لیے ناکافی مدد فراہم کی۔ نیٹو کے اعلان کے مطابق یہ سربراہی اجلاس سات اور آٹھ جولائی کو ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ میں صدارتی کمپلیکس کے اندر منعقد ہونا ہے۔ واضح رہے کہ متوقع انقرہ سربراہی اجلاس دوسری بار ہے جب ترکی نیٹو رہنماؤں کے اجلاسوں کی ميزبانی کر رہا ہے۔ اس سے قبل 2004 میں استنبول سربراہی اجلاس ہوا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں