بی بی سی کے خلاف 10 بلین ڈالر کا مقدمہ: ٹرمپ کے وکلاء ڈسکوری پروسیس روکنے کے خواہاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے وکلاء نے بی بی سی کے خلاف 10 بلین ڈالر کے ہتکِ عزت کے مقدمے میں مئی میں ایک وفاقی جج سے کہا تھا کہ ایسے معاملات کو کسی دوسرے جج کے پاس منتقل کرنے کی درخواست کا نتیجہ آنے تک ڈسکوری پروسیس روک دیا جائے۔ (ڈسکوری پروسیس کا مطلب ہے مالی تفصیلات اور اثاثہ جات کے ثبوت اور ریکارڈ فراہم کرنا)۔

ٹرمپ نے عوامی طور پر مالی اعانت سے چلنے والے براڈکاسٹر پر الزام لگایا ہے کہ ان کی چھے جنوری 2021 کی تقریر کے بعض حصے جوڑ کر اور آن ایئر کر کے نشریاتی ادارے نے انہیں بدنام کیا ہے جس سے ایسا ظاہر ہوا کہ انہوں نے اپنے حامیوں کو امریکی کیپیٹل پر حملے کرنے کی ہدایت کی تھی۔

تاہم ٹرمپ کے وکلاء نے کہا کہ انہوں نے صرف ایک مختصر سٹے کا مطالبہ کیا تھا۔ یہ فوراً واضح نہیں ہو سکا کہ ایسا فیصلہ کب دیا جائے گا۔

بی بی سی اور وائٹ ہاؤس نے تبصرے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔

دسمبر میں ٹرمپ کے فلوریڈا میں دائر کردہ مقدمے میں کہا گیا تھا کہ بی بی سی نے ایک ریاستی قانون کی خلاف ورزی کی جو دھوکہ دہی اور غیر منصفانہ تجارتی طریقوں کو روکتا ہے۔ صدر ٹرمپ اپنے ہر ایک الزام پر کم از کم پانچ بلین ڈالر کا ہرجانہ طلب کر رہے ہیں۔

سب سے پہلے جمعہ کو یہ خبر شائع کرنے والے فنانشل ٹائمز کو ٹرمپ کی قانونی ٹیم کے ترجمان نے بتایا، بی بی سی "عمداً اور بدنیتی سے ان کی تقریر کو مسخ کر کے اور ہیرا پھیری کے ذریعے بدنام کرنے" کا ذمہ دار ہے۔

ایک بیان میں ترجمان نے مزید کہا، "صدر ٹرمپ بی بی سی اور ان تمام لوگوں کا احتساب جاری رکھیں گے جو جعلی خبریں پھیلاتے ہیں۔"

اخبار نے کہا کہ مذکورہ فلم یا فوٹیج کے مالیاتی اثرات کا پتہ لگانے کی کوشش میں بی بی سی نے صدر کے کاروباری مفادات اور اثاثہ جات رکھنے والے ٹرسٹ کو عدالتی احکامات اور دستاویزات بھیجے۔ ٹرمپ کے بڑے بیٹے ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر ٹرسٹ کا انتظام سنبھالتے اور اس کے واحد ٹرسٹی ہیں۔

یہ دستاویزی فلم 2024 میں ٹرمپ کے صدارتی انتخاب جیتنے سے کچھ دیر پہلے پہلی بار نشر کی گئی تھی۔ اس میں ایک حصہ دکھایا گیا تھا جس میں ٹرمپ نے اپنے حامیوں کو کہا تھا کہ کیپیٹل پر مارچ کریں اور ایک اور حصے میں تقریباً ایک گھنٹے بعد انہوں نے کہا، "پوری شدت سے لڑیں۔"

بی بی سی نے اس ترمیم کے لیے ٹرمپ سے معافی مانگی لیکن وہ چاہتا ہے کہ ان کا مقدمہ خارج ہو جائے۔ براڈکاسٹر نے مارچ میں جاری کردہ عدالتی کاغذات میں کہا تھا کہ ٹرمپ کے بعد میں دوبارہ انتخاب سے ظاہر ہوا کہ مبینہ ہتکِ عزت سے ان کی شہرت کو نقصان نہیں پہنچا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں