اسرائیل کی جانب سے جنوبی لبنان پر جاری فضائی حملوں کے تسلسل کے درمیان لبنان کے وزیرِاعظم نواف سلام نے کہا ہے کہ ریاست کی مکمل عملداری پورے ملک کے تمام علاقوں پر قائم ہونی چاہیے۔
انہوں نے زور دیا کہ لبنان اپنی خودمختاری اور سلامتی کے حق سے کسی بھی صورت میں دستبردار نہیں ہوگا۔
نواف سلام نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی لبنان کے عوام کی مشکلات دراصل پورے لبنان کی مشکلات ہیں اور ریاست اپنے شہریوں کے ساتھ کھڑی ہے۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا، جب لبنانی فوج نے اعلان کیا کہ جنوبی لبنان میں اسرائیلی فضائی حملے میں اس کے متعدد اہلکار، جن میں ایک افسر بھی شامل ہے، ہلاک ہو گئے ہیں۔
یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا، جب چند روز قبل ہی لبنان اور اسرائیل کے درمیان امریکہ میں ہونے والی بات چیت کے بعد مشروط جنگ بندی پر اتفاق کیا گیا تھا۔
یاد رہے کہ 17 اپریل کو اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی باضابطہ طور پر نافذ ہوئی تھی، تاہم زمینی سطح پر اس کی مکمل پابندی نہیں ہو سکی۔
دوسری جانب ایران کا مؤقف ہے کہ لبنان کو امریکہ کے ساتھ کسی بھی ممکنہ معاہدے کا حصہ بنایا جانا چاہیے تاکہ خطے میں جاری وسیع جنگ کا خاتمہ ممکن ہو سکے، جو فروری سے جاری ہے۔
اس دوران حزب اللہ اور اسرائیل ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کرتے رہتے ہیں اور دونوں فریق اپنی کارروائیوں کو دوسرے کی خلاف ورزیوں کا جواب قرار دیتے ہیں۔
اسرائیل اور لبنان کے وفود نے بدھ کے روز واشنگٹن میں امریکی سرپرستی میں چوتھے دور کی براہِ راست مذاکرات کیے، جن میں فریقین نے اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان مکمل جنگ بندی کے نفاذ پر اتفاق کیا۔
یہ معاہدہ اس شرط کے ساتھ طے پایا کہ حزب اللہ مکمل طور پر فائرنگ بند کرے گا اور دریائے لیتانی کے جنوب سے پیچھے ہٹ جائے گا، جو سرحد سے تقریباً 30 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
مجوزہ مشروط جنگ بندی کے مطابق لبنانی فوج جنوبی لبنان کے ''تجرباتی علاقوں'' میں تعینات ہوگی اور ان علاقوں کا مکمل کنٹرول سنبھالے گی، جبکہ تمام غیر ریاستی عناصر کو وہاں سے ہٹا دیا جائے گا۔
تاہم حزب اللہ نے حکومت کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کو مسترد کرتے ہوئے اسے ''تماشا اور توہین'' قرار دیا ہے۔
حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم نے جمعرات کو اس مؤقف کا اظہار کیا۔یاد رہے کہ لبنان میں جنگ کا آغاز 2 مارچ کو ہوا تھا، جب حزب اللہ نے ایران پر اسرائیل اور امریکہ کے پہلے حملوں کے جواب میں اسرائیل پر میزائل فائر کیے تھے، جن میں ایران کے رہبر علی خامنہ ای کو نشانہ بنانے کا دعویٰ بھی شامل تھا۔اس کے جواب میں اسرائیل نے لبنان پر وسیع فضائی حملے اور زمینی کارروائی شروع کر دی۔
-
لبنان پر امریکہ سے کوئی سمجھوتہ نہیں ہوا:عراقچی
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے لبنان کے صدر جوزف عون کے اس بیان پر ردِعمل دیا ...
بين الاقوامى -
اسرائیل کا لبنانی فوج کی گاڑی پر حملہ... افسر سمیت 2 فوجی اہل کار ہلاک
جنوبی لبنان پر اسرائیلی فضائی حملوں کا سلسلہ جاری ہے، جس کے دوران ایک اسرائیلی ...
مشرق وسطی -
حزب اللہ کے رکن پارلیمنٹ کی لبنانی صدر کے بارے میں ٹویٹ... شدید برہمی کا سبب
حزب اللہ کی جانب سے ابھی تک لبنانی صدر جوزف عون کے گذشتہ روز دیے گئے بیان کے جواب ...
مشرق وسطی