ایران معاہدے پر آخری فیصلہ میرا ہو گا، نیتن یاہو کو ماننا پڑے گا: ٹرمپ کا دو ٹوک مؤقف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار اور پیر کی درمیانی شب کہا کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے پاس اس کے سوا کوئی راستہ نہیں ہوگا کہ وہ ایران کے ساتھ امریکا کے طے پانے والے کسی بھی معاہدے کو قبول کریں، جبکہ اس معاملے میں حتمی فیصلہ ان ہی کا ہوگا۔

ٹرمپ نے برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا:نیتن یاہو کے پاس کوئی اور اختیار نہیں ہوگا۔ فیصلے میں کرتا ہوں، تمام فیصلے میں ہی کرتا ہوں، وہ فیصلے نہیں کرتے۔

ٹرمپ کا یہ بیان ایران کی جانب سے اسرائیل پر 4 مرحلوں میں بیلسٹک میزائل داغے جانے کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا۔

فنانشل ٹائمز کے مطابق یہ حملہ گزشتہ اپریل سے نافذ جنگ بندی کی سب سے سنگین خلاف ورزی قرار دیا جا رہا ہے۔

ٹرمپ نے کہا کہ ایرانی حملے سے تہران کے ساتھ جاری مذاکرات متاثر نہیں ہوں گے اور اس کا معاہدے پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

انہوں نے کہا:اس سے معاہدے پر کوئی اثر نہیں ہوگا۔ مزید کہا:دیکھتے ہیں معاملات کہاں جا کر رکتے ہیں، لیکن ان حملوں سے عملی طور پر کچھ حاصل نہیں ہوا۔ ان کے بقول موجودہ کشیدگی مذاکراتی عمل پر اثرانداز نہیں ہونی چاہیے۔

دوسری جانب اسرائیلی چینل 12 نے پیر کو رپورٹ کیا کہ وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی درخواست پر ایرانی میزائل حملے کے جواب میں فوری کارروائی مؤخر کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے نیتن یاہو سے ٹیلیفونک گفتگو میں کہا کہ وہ ایرانی حملے کا جواب دینے سے گریز کریں اور ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے سے متعلق مذاکرات کو چند روز مزید جاری رہنے دیں۔

یہ معلومات ایک سینئر امریکی عہدیدار اور گفتگو سے باخبر ایک اسرائیلی ذریعے نے فراہم کیں۔امریکی عہدیدار کے مطابق ٹرمپ نے نیتن یاہو کو بتایا کہ معاہدہ طے پانے کے قریب ہے، اس لیے مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لیے مزید چند دن درکار ہیں اور اسرائیل کو اس عمل میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نیتن یاہو نے ابتدا میں ٹرمپ کو اپنا مؤقف تبدیل کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی اور اس درخواست پر تحفظات کا اظہار کیا، تاہم آخرکار انہوں نے کسی حد تک صدر کی درخواست مان لی۔

سینئر امریکی عہدیدار نے یہ بھی بتایا کہ اس بار دونوں رہنماؤں کے درمیان گفتگو پہلے کی نسبت زیادہ پُرسکون رہی اور ٹرمپ نے نیتن یاہو پر آواز بلند نہیں کی۔

سینئر امریکی عہدیدار نے کہا:ہم سمجھتے ہیں کہ صدر نے مزید وقت حاصل کر لیا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ ہم معاہدے کے بہت قریب ہیں، اسی لیے وہ مستقبل قریب میں کسی اسرائیلی حملے کی توقع نہیں رکھتے۔

انہوں نے مزید کہا:صدر کے نزدیک یہ جنگ تین ماہ سے زیادہ عرصے سے جاری ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ آگے بڑھا جائے۔

فنانشل ٹائمز کے مطابق ماضی میں جلد معاہدہ ہونے کے حوالے سے پُرامید بیانات دینے والے ٹرمپ اس بار معاہدے کے وقت کے بارے میں زیادہ محتاط دکھائی دیے۔

انہوں نے کہا:میرا خیال ہے کہ معاہدہ اب بھی ممکن ہے، دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔ٹرمپ نے زور دیا کہ معاہدے کا فیصلہ اس کی افادیت کی بنیاد پر کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا:معاہدہ اپنی افادیت کے باعث کامیاب ہو سکتا ہے یا ناکام بھی ہو سکتا ہے، لیکن حالیہ واقعات کا اس پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

معاہدہ ناکام ہونے کی صورت میں ممکنہ امریکی اقدامات کے بارے میں پوچھے جانے پر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا کے سامنے دو راستے موجود ہیں۔

انہوں نے کہا:یا تو ہم مداخلت کر کے وہ کام مکمل کریں گے جو فوجی طور پر ابھی باقی ہے یا پھر ایران پر دباؤ اور پابندیوں کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔

ٹرمپ کے بقول یہ پابندیاں غالباً ایران کے خلاف ہونے والے کسی بھی حملے سے زیادہ مؤثر ثابت ہوئی ہیں۔
انٹرویو میں ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان ہونے والی اس ٹیلیفونک گفتگو کا بھی ذکر کیا گیا، جس کی تفصیلات گزشتہ ہفتے ویب سائٹ ایکسیوس نے شائع کی تھیں۔

ایک امریکی عہدیدار نے اس گفتگو کو'' سخت اور کشیدہ ''قرار دیا تھا، جبکہ ٹرمپ نے فنانشل ٹائمز سے گفتگو میں اس رابطے کی تصدیق کی، تاہم ایکسیوس کی جانب سے پیش کی گئی اس کی نوعیت پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔

اخبار نے نشاندہی کی کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی کے متعدد معاہدوں کی سرپرستی کرنے کے باوجود ٹرمپ اسرائیل کو لبنان میں جاری حملوں سے روکنے میں کامیاب نہیں ہوئے۔

ان حملوں میں اتوار کو بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے (الضاحیہ الجنوبیۃ) پر کیا گیا فضائی حملہ بھی شامل ہے۔

فنانشل ٹائمز کے مطابق ایران نے کہا ہے کہ اس کا میزائل حملہ اسی فضائی کارروائی کے ردِعمل میں کیا گیا اور اس نے واضح کیا کہ امریکا کے ساتھ کسی بھی معاہدے تک پہنچنے کے لیے اسرائیل کی جانب سے مستقل جنگ بندی ضروری ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں