سعودی عرب اور روس نے مختلف شعبوں میں 13 سٹریٹجک معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے ہیں، جن میں سب سے نمایاں شعبہ غذائی تحفظ ہے۔
ان معاہدوں کی مجموعی سرمایہ کاری مالیت 4 اعشاریہ 8 ارب ریال ہے، جن کا مقصد دوطرفہ تجارتی تعاون کو وسعت دینا اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔
#نشرة_الرابعة | مراسل العربية: ما يميز النسخة الحالية من منتدى سانت بطرسبرغ الاقتصادي هو أن السعودية ضيف الشرف الرئيس، والوفد السعودي يغطي قطاعات عدة. pic.twitter.com/na6jHQHBGt
— العربية السعودية (@AlArabiya_KSA) June 3, 2026
یہ معاہدے روس کے شہر سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم کے موقع پر طے پائے، جہاں سعودی عرب کی وزارتِ ماحولیات، پانی و زراعت نے حیاتیاتی اور غذائی شعبوں میں مہارت رکھنے والی بڑی روسی کمپنیوں کو متوجہ کیا۔
فورم میں دونوں ممالک کے سرکاری اداروں اور بڑے کاروباری اداروں کے درمیان متعدد معاہدوں اور شراکت داریوں پر دستخط ہوئے۔
یہ پیش رفت سعودی عرب کی ان مسلسل کوششوں کا حصہ ہے، جن کا مقصد فوڈ سیکیورٹی کے اہداف حاصل کرنا، جدید حیاتیاتی ٹیکنالوجی کو مقامی سطح پر منتقل کرنا اور سپلائی چین کو مستحکم و پائیدار بنانا ہے، جو سعودی وژن 2030 سے ہم آہنگ ہے۔
مذكرة تفاهم سعودية روسية لتعزيز التعاون البيئي المشترك، وقعها معالي نائب الوزير على هامش منتدى سانت بطرسبرغ الاقتصادي الدولي 2026 في روسيا. pic.twitter.com/XuENNFjRIe
— وزارة البيئة والمياه والزراعة (@MEWA_KSA) June 4, 2026
سعودی نائب وزیرِ زراعت انجینئر منصور المشیطی نے کہا کہ یہ معاہدے مختلف اہم شعبوں پر محیط ہیں، جن میں خاص طور پر ویٹرنری ویکسینز کی تیاری اور مقامی سطح پر صنعت سازی شامل ہے تاکہ حیوانی صحت اور بایو سیکیورٹی کو بہتر بنایا جا سکے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ معاہدوں میں پولٹری کے گوشت کی پیداوار کے لیے نسلوں کی ترقی اور افزائش بھی شامل ہے تاکہ مقامی خود کفالت کو یقینی بنایا جا سکے اور پیداوار کو پائیدار بنایا جائے۔
"ارتفعت قيمة الاستثمارات في القطاع الزراعي بالمملكة إلى 30 مليار ريال، مما يزيد من جاذبية القطاع وحيويته" من أبرز ماجاء في كلمة معالي نائب الوزير خلال منتدى سانت بطرسبرغ الاقتصادي الدولي 2026 في روسيا. pic.twitter.com/cU3iIZq0pG
— وزارة البيئة والمياه والزراعة (@MEWA_KSA) June 4, 2026
اسی طرح جانوروں کی خوراک (فیڈ) اور سپلائی چین کے وسائل کی فراہمی کو بہتر بنانے پر بھی اتفاق ہوا تاکہ لائیو اسٹاک سیکٹر کا استحکام اور ترقی ممکن ہو سکے۔
اس کے علاوہ سعودی سمندری پیداوار، خصوصاً جھینگے اور مچھلی کی برآمد کے لیے روسی کمپنیوں کے ساتھ اسٹریٹجک معاہدے کیے گئے۔
مزید برآں اونٹ کے دودھ اور اس سے بنی مصنوعات کو روسی اور عالمی منڈیوں تک پہنچانے، سعودی کافی (البن السعودي) کی برآمد و مارکیٹنگ، اور سافٹ ڈرنکس کے شعبے میں تعاون کے لیے بھی معاہدے طے پائے۔
نائب وزیر نے کہا کہ اس فورم میں سعودی عرب کی شرکت دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے اور یہ ماحولیات، پانی اور زراعت کے شعبوں میں سرمایہ کاری اور تجربات کے تبادلے کے لیے اہم موقع فراہم کرتی ہے۔