اسرائیلی حکام نے پیر کے روز فلسطین سے تعلق رکھنے والی فٹبال کی قومی کھلاڑی کو رہا کر دیا ہے۔ اسرائیل نے انہیں یہ رہائی چھ دن تک قید رکھنے کے بعد دی ہے۔ مغربی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے ساتھ بات کرتے ہوئے پولیس اور فٹ بالر خاتون کی والدہ نے رہائی کی تصدیق کی ہے۔
فٹ بالر کی والدہ حالاوانی نے کہا 'میں نے اپنی بیٹی کی حراست میں رہنے کے دن انتہائی تکلیف اور اذیت میں گزارے ہیں۔ مگر اب سے رہائی مل جانے پر میں بہت خوش ہوں۔' انہوں نے کہا اسرائیل نے ان کی بیٹی کو اتوار کی رات رہائی دی ہے، تاہم کہا ہے کہ اسے ابھی مزید پانچ دن اپنے گھر میں ہی نظر بند رہنا ہوگا۔
اسرائیلی پولیس کے ایک ترجمان نے خبر رساں ادارے کو بتایا یہ رہائی عدالتی حکم کے تحت کی گئی ہے۔ تاہم عدالت نے بھی اس مشکوک فلسطینی فٹ بالر کو ابھی گھر میں نظر بند رکھنے کا حکم دیا ہے۔ تاہم اس عدالتی حکم نامے میں خاتون فٹ بالر کے خلاف مستقبل میں کسی کارروائی کے لیے کوئی اشارہ نہیں دیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق حالاوانی کو پچھلے ہفتے گرفتار کیا گیا تھا کیونکہ اس پر شبہ تھا کہ وہ یروشلم میں ایک واقعے میں ملوث تھی۔ اس نے اپنے گھر کی بالکونی گلی سے گزرنے والے یہودی مظاہرین پر مبینہ طور پر کوئی چیز پھینکی تھی۔ فٹ بالر کے علاوہ ایک ٹین ایجر فلسطینی کو بھی حراست میں لیا گیا تھا۔
اس واقعے کے حوالے سے تحقیقات ابھی جاری ہیں۔ نیز شہادتیں جمع کی جارہی ہیں۔ پولیس نے 'اے ایف پی' کو اس واقعے کی بنیاد پر جاری انکوائری کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا۔
ادھر فلسطینی فٹبال ایسوسی ایشن نے پیر کے روز حالاوانی کی رہائی کی خوشی میں اتوار کو رات گئے اظہار خوشی کے لیے تقریب منعقد کی۔ جس میں کئی فٹبالر شریک ہوئے۔
ریند حالاوانی نے جیل سے گھر پہنچنے پر سکھ کا سانس لیا اور خوشی کے اظہار کے لیے فلسطینی قومی فٹ بال ٹیم کا سرخ رنگ کا لباس زیب تن کیا۔ فلسطینی قیدیوں کی بہبود کے لیے قائم پرزنرز کلب نے کہا ہے کہ اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینی خواتین کی تعداد 95 ہو گئی ہے۔ اسرائیلی جیلوں میں فلسطینی قیدیوں کی ٓمجموعی تعداد 9500 ہو چکی ہے۔