امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے تعلقات میں ایران کے خلاف جنگ میں ایک ساتھ شامل ہونے کے بعد سے بحرانوں کا ایک سلسلہ دیکھا گیا ہے۔ تاہم لبنان اور ایران پر مسلسل حملوں کی وجہ سے نیتن یاہو سے ٹرمپ کی ناراضگی حال ہی میں کھل کر سامنے آئی ہے۔
گذشتہ اتوار کو برطانوی اخبار 'فنانشل ٹائمز' کے ساتھ ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے اس بات کی تصدیق کی کہ فیصلہ ان کے ہاتھ میں ہے۔ انہوں نے کہا "میں فیصلہ کرنے والا ہوں.. میں ہی تمام فیصلے کرتا ہوں.. نیتن یاہو فیصلے نہیں کرتے۔" جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا نیتن یاہو کو بالآخر ایران کے ساتھ معاہدے کو قبول کرنا پڑے گا، تو انہوں نے کہا "ان کے پاس کوئی چارہ نہیں ہوگا۔"
ٹرمپ نے کل اسرائیل اور ایران پر زور دیا کہ وہ کشیدگی کو روکیں اور "ٹروتھ سوشل" پر ایک پوسٹ میں حماقتیں نہ کرنے کی اپیل کی، کیونکہ ایران کے ساتھ معاہدہ قریب ہے۔ یہ پیغام بلا شبہ ایرانی اور اسرائیلی دونوں فریقوں کے لیے اور خاص طور پر نیتن یاہو کے لیے تھا۔
اس کے نتیجے میں اسرائیل اور ایران نے کل جنگ بندی کا اعلان کیا، لیکن نیتن یاہو نے دوبارہ ٹرمپ کو چیلنج کرنے کی آمادگی ظاہر کی۔ انھوں نے باور کرایا کہ اگر حملے دوبارہ شروع ہوئے تو ملک جنگ میں واپس آئے گا اور لبنان میں حزب اللہ کے خلاف جنگ نہیں رکے گی۔ اس کے باوجود، آج منگل کو ٹرمپ نے دوبارہ تصدیق کی کہ اسرائیلی وزیر اعظم کے ساتھ ان کے تعلقات بہت اچھے ہیں۔
'فنانشل ٹائمز' کے مطابق تمام اشارے ثابت کرتے ہیں کہ دونوں کے درمیان تعلقات کشیدہ ہیں، خاص طور پر اس لیے کہ ٹرمپ اور نیتن یاہو دونوں اپنے اپنے ممالک میں سیاسی دباؤ کا شکار ہیں۔ اس تناظر میں، اسرائیلی وزیر اعظم کے سابق چیف آف اسٹاف اور سیاسی تجزیہ کار ایویو بوشنسکی کا ماننا ہے کہ "نیتن یاہو کے پاس دو بُرے آپشن ہیں : یا تو وہ ٹرمپ کے سامنے جھک جائیں اور وہ کریں جو امریکی صدر چاہتے ہیں، جس کی اندرونی سیاسی قیمت چکانی پڑے گی... یا ان سے دور ہو جائیں۔ لیکن اس صورت میں اسرائیل اکیلے ایران کے ساتھ مکمل جنگ نہیں لڑ سکے گا، خاص طور پر دفاعی محاذ پر۔"
ٹرمپ کے جنگ ختم کرنے کے اصرار نے نیتن یاہو کو داخلی طور پر انتہائی مشکل صورت حال میں ڈال دیا ہے، کیونکہ وہ اس سال کے آخر میں متوقع انتخابات سے قبل اسرائیل کے اہم ترین اتحادیوں کے مطالبات اور داخلی رائے عامہ کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سروے بتاتے ہیں کہ اکثریت ایران کے خلاف لڑائی جاری رکھنے کی حمایت کرتی ہے کیونکہ انہیں یقین ہے کہ اسرائیل نے ابھی تک اپنے اہداف حاصل نہیں کیے ہیں۔
واشنگٹن میں سینٹر فار اے نیو امریکن سکیورٹی کے سربراہ رچرڈ فاؤنٹین کے مطابق ایرانی حکام اور ٹرمپ انتظامیہ ایران اور لبنان کے میدانوں کو ایک محاذ کے طور پر دیکھتے ہیں، جبکہ اسرائیل انہیں دو الگ الگ محاذ سمجھتا ہے۔ تل ابیب میں سیاسی تجزیہ کار دالیا شینڈلن کا کہنا ہے کہ یہ عوامی اختلافات "سیاسی کارکردگی" کا پہلو بھی رکھتے ہیں۔ ٹرمپ امریکی رائے عامہ کو یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ وہ کشیدگی روکنے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ نیتن یاہو اپنے داخلی سامعین کے سامنے ٹرمپ کو چیلنج کرنے والے رہنما کے طور پر نظر آنا چاہتے ہیں۔
اس کے باوجود اسرائیلی اپوزیشن کے سیاست دانوں نے نیتن یاہو کی جانب سے حملوں پر عمل درآمد نہ کرنے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ان پر "ٹرمپ کے دباؤ کے سامنے جھکنے" کا الزام عائد کیا ہے، کیونکہ یہ ایک ہفتے کے دوران دوسری بار ہے کہ انہوں نے فوجی منصوبوں کو مؤخر کیا ہے۔
-
مغربی کنارے میں اسرائیلی آباد کاری کے جواب میں بین الاقوامی پابندیاں
برطانیہ نے آسٹریلیا، کینیڈا، فرانس اور ناروے کے وزرائے خارجہ کے ساتھ مل کر مغربی ...
بين الاقوامى -
سرکاری میڈیا ایران: پیر کو اسرائیلی حملے میں ہمارے دو فوجی اہلکار ہلاک ہو گئے
ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن نے منگل کے روز کہا ہے کہ اسرائیلی حملوں کے تازہ ترین ...
مشرق وسطی -
لبنان سے فائر ہونے والے ہر میزائل کا جواب بیروت پر حملے سے دیا جائے گا:اسرائیلی کابینہ
گذشتہ اتوار کی شام سے پیر کی صبح تک جاری رہنے والی جھڑپوں اور بیروت کے جنوبی ...
بين الاقوامى