لبنان سے فائر ہونے والے ہر میزائل کا جواب بیروت پر حملے سے دیا جائے گا:اسرائیلی کابینہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

گذشتہ اتوار کی شام سے پیر کی صبح تک جاری رہنے والی جھڑپوں اور بیروت کے جنوبی مضافات پر اسرائیلی بمباری کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ کے دوبارہ بھڑک اٹھنے کے انتباہ کے باوجود اسرائیلی سکیورٹی کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ لبنانی سرزمین سے شمالی بستیوں پر فائر کیے جانے والے کسی بھی میزائل کا جواب سیاسی منظوری کے بغیر براہِ راست بیروت پر حملے سے دیا جائے گا۔

اسرائیلی چینل 14 نے رپورٹ کیا کہ اس فیصلے کے تحت آج رات سے شمالی اسرائیل کی جانب کسی بھی میزائل یا ڈرون کے فائر ہونے پر دارالحکومت بیروت پر براہِ راست حملہ کیا جائے گا۔

فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بیروت کو نشانہ بنانے کے لیے سیاسی قیادت، بشمول وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو اور وزیر دفاع یسرائیل کاٹز، سے اضافی منظوری لینے کی ضرورت نہیں ہوگی۔

حزب اللہ کو دھمکی

یدیعوت احرونوت اخبار کے مطابق اس اقدام کے ساتھ ہی ایک اسرائیلی عہدیدار نے تصدیق کی ہے کہ "اگر حزب اللہ کی جانب سے اسرائیل کو نشانہ بنایا گیا تو ملک بیروت کے جنوبی مضافات پر بمباری کرے گا"۔ عہدیدار نے کہا کہ "ہم نے فوج کو ہدایت کی ہے کہ وہ حزب اللہ کے ساتھ طے شدہ پرانی مساوات کو برقرار رکھے"، جس سے مراد بیروت بمقابلہ شمالی بستیوں کا تحفظ ہے۔

یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے اور ایک اعلیٰ اسرائیلی سکیورٹی عہدیدار کا ماننا ہے کہ شدید لڑائی کی طرف واپسی محض وقت کا سوال ہے۔

دراندازی کی کارروائی

اسرائیلی افواج جنوبی لبنان پر بھی اپنے حملے جاری رکھے ہوئے ہیں اور آج صبح صور شہر پر فضائی حملوں کا ایک سلسلہ کیا گیا ہے۔

اسرائیلی فوج نے اعلان کیا کہ اس نے لبنان کے ساتھ سرحد پار کرنے والے ایک مسلح شخص کو مزارع شبعا کے قریب واقع علاقے جب الروس (جبل رامیم) میں ہلاک کر دیا ہے۔ فوج نے مزید کہا کہ "دراندازی کی کارروائی کے بعد فضائیہ علاقے کی نگرانی کر رہی ہے"۔

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز اسرائیل اور ایران پر زور دیا کہ وہ فائر بندی کا تبادلہ بند کریں، جبکہ رپورٹس میں ان کے اور اسرائیلی وزیراعظم کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلافات کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ٹرمپ نے "تروث سوشل" پر لکھاکہ "اسرائیل اور ایران کو فوری طور پر فائر بندی کر دینی چاہیے"۔

چند منٹ بعد ایک نئی پوسٹ میں انہوں نے مزید کہا کہ "امن کے حتمی مذاکرات جاری ہیں بشرطیکہ جہالت یا حماقت کی وجہ سے ان میں رکاوٹ نہ ڈالی جائے"۔

تاہم بنجمن نیتن یاھو نے کل شام ایک ٹیلی ویژن خطاب میں کہا کہ انہوں نے ٹرمپ کو مطلع کیا ہے کہ "ان کے ملک کو اپنا دفاع کرنے کا پورا حق حاصل ہے اور وہ ضرورت پڑنے پر اس حق کا استعمال کرے گا"، انہوں نے دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ "اگر ایران نے دوبارہ ہم پر حملے کی غلطی کی تو ہم پوری طاقت سے جواب دیں گے"۔

اس کے جواب میں اسرائیلی وزیر دفاع نے "لبنان میں حزب اللہ کے خلاف کارروائی" جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ "ہم ایران کی دھمکیوں کو سختی سے مسترد کرتے ہیں اور لبنان کو ایران کے ساتھ جوڑنے اور اسرائیل پر حملہ کرنے کی ہر ایرانی کوشش کا سخت جواب دیا جائے گا"۔

دوسری جانب تہران نے بھی زور دیا ہے کہ لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ بندی معاہدے کی کسی بھی خلاف ورزی کا جواب دیا جائے گا۔ ایرانی ہیڈکوارٹر "خاتم الانبیاء" نے حملے بند کرنے کے اعلان میں کہا کہ "اگر جارحیت اور دشمنانہ کارروائیاں، بشمول جنوبی لبنان، جاری رہیں تو اس سے بھی سخت اقدامات کیے جائیں گے"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں