ایران اور امریکا کے درمیان متوقع مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کی تفصیلات تاحال واضح نہیں، تاہم العربیہ/الحدث کے ذرائع کے مطابق دونوں ممالک کے وفود کے درمیان آج اتوار کو ایک ورچوئل اجلاس منعقد ہوگا، جس میں امن معاہدے پر دستخط کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی تقریب میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ کے ساتھ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف بھی شریک ہوں گے۔ذرائع کے مطابق پاکستان اور قطر کے ثالث بھی اس اجلاس میں آن لائن شرکت کریں گے۔
آبنائے ہرمز کھولنے اور پابندیاں ہٹانے کی تجویز
باخبر ذرائع کے مطابق مجوزہ معاہدے پر دستخط کے بعد آبنائے ہرمز کو کھول دیا جائے گا اور تجارتی جہازوں کو بغیر کسی فیس کے گزرنے کی اجازت دی جائے گی۔
اس کے ساتھ ہی ایران کی بندرگاہوں پر عائد امریکی پابندیاں بھی ختم کر دی جائیں گی۔اسی دوران ایک باخبر ذریعے نے رائٹرز کو بتایا کہ قطر کے مذاکرات کار آج صبح تہران پہنچے ہیں تاکہ جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدے کو حتمی شکل دینے کی کوششیں کی جا سکیں۔ذرائع کے مطابق امریکا کے ساتھ فریم ورک معاہدے کے بارے میں ایران کا حتمی فیصلہ ابھی زیرِ غور ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز کہا تھا کہ جنگ کے خاتمے کے لیے ایران کے ساتھ معاہدہ اتوار کو طے پا جائے گا، جس کے فوراً بعد آبنائے ہرمز کو کھول دیا جائے گا۔ تاہم تہران نے تاحال اس معاہدے پر دستخط کی کسی تاریخ کی سرکاری تصدیق نہیں کی۔
دوسری جانب پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف، جن کا ملک دونوں فریقوں کے درمیان ثالثی کی کوششوں میں شامل ہے، نے امید ظاہر کی کہ معاہدہ آئندہ 24 گھنٹوں میں مکمل ہو جائے گا۔
ان کے مطابق پہلے الیکٹرانک دستخط ہوں گے، جس کے بعد اگلے ہفتے تکنیکی مذاکرات کا آغاز کیا جائے گا۔ادھر تہران میں ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ دستخط کی حتمی تاریخ کے بارے میں ابھی انتظار کرنا ہوگا۔
ان کے بقول یہ کل نہیں ہوگا، ممکن ہے آنے والے دنوں میں ہو۔متوقع معاہدے سے متعلق بعض اطلاعات، جن میں ایران کی جانب سے ممکنہ رعایتوں کا اشارہ دیا گیا، ملک کے سخت گیر حلقوں میں مخالفت کا باعث بن رہی ہیں۔
شمال مشرقی شہر مشہد میں وزارت خارجہ کے ایک دفتر کے باہر درجنوں مظاہرین جمع ہوئے اور انہوں نے معاہدے، وزیر خارجہ عباس عراقچی اور پارلیمنٹ کے اسپیکر کے خلاف نعرے بازی کی۔
واضح رہے کہ 8 اپریل کو ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کے بعد سے جاری مذاکرات کئی اختلافی نکات کے باعث تعطل کا شکار رہے ہیں۔
ان میں ایران کا جوہری پروگرام، آبنائے ہرمز کا کنٹرول، تہران پر عائد پابندیوں کا خاتمہ اور لبنان کو معاہدے میں شامل کرنے جیسے معاملات شامل ہیں، جبکہ ایران کے حمایت یافتہ لبنانی گروپ حزب اللہ کو اسرائیل کی شدید فوجی کارروائیوں کا سامنا ہے۔