ٹرمپ نے لبنان میں اسرائیل کے طریقۂ کار پر تنقید کی: شہری ہلاکتوں کا الزام

ٹرمپ نے کہا ہے کہ حزب اللہ کو نشانہ بنانے کے لیے اسرائیل کو پورے رہائشی عمارتیں تباہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لبنان میں حزب اللہ کے جنگجوؤں کو نشانہ بنانے کے لیے اسرائیل کے فوجی طریقۂ کار پر غیر معمولی طور پر عوامی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی ایک شخص کی تلاش میں پورے رہائشی عمارتوں کو تباہ کرنا ضروری نہیں۔

ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں بیروت پر اسرائیلی حملوں پر بھی ناراضی ظاہر کی تھی اور کہا تھا کہ یہ اقدامات ان کے ایران کے ساتھ معاہدے کو متاثر کر سکتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ اسرائیل کو حزب اللہ کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے بہت زیادہ وقت ہو چکا ہے۔

فرانس میں جی 7 سربراہی اجلاس کے دوران انہوں نے کہا: بہت زیادہ لوگ مارے جا رہے ہیں۔ ہر بار کسی ایک شخص کو تلاش کرنے کے لیے آپ کو پوری عمارت گرانے کی ضرورت نہیں، کیونکہ ان عمارتوں میں بہت سے لوگ ہوتے ہیں اور وہ سب حزب اللہ سے تعلق نہیں رکھتے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لبنان میں حزب اللہ کے جنگجوؤں کو نشانہ بنانے کے لیے اسرائیل کے فوجی طریقۂ کار پر غیر معمولی عوامی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی ایک شخص کو نشانہ بنانے کے لیے پورے رہائشی عمارتوں پر بمباری درست نہیں۔

ٹرمپ کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں، جب ان کے اور اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ اگرچہ دونوں رہنماؤں کے تعلقات ماضی میں اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں، لیکن اسرائیلی کارروائیوں اور امریکی پالیسیوں پر اختلافات مزید نمایاں ہو گئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق اسرائیلی حکام امریکی ایران معاہدے سے متعلق تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں، جبکہ ٹرمپ بیروت پر حملوں کے باعث نیتن یاہو سے عدم اطمینان ظاہر کر رہے ہیں۔

اس کے باوجود وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ اور اسرائیل کے درمیان مضبوط شراکت داری موجود ہے اور دونوں ممالک کے اقدامات نے خطے کو زیادہ محفوظ بنانے میں کردار ادا کیا ہے۔

ادھر یہ بھی رپورٹ ہوا ہے کہ واشنگٹن نے ایران کے ساتھ معاہدے کی تفصیلات اسرائیل کو فراہم کرنے سے انکار کر دیا ہے، جس کی وجہ حساس معلومات کے ممکنہ لیک ہونے کا خدشہ بتایا گیا ہے۔

اس بات کے کوئی واضح اشارے نہیں ملے کہ ٹرمپ کے یہ بیانات کسی ایسی مؤثر پالیسی میں تبدیل ہوں گے جو اسرائیل کو اپنے فوجی طریقۂ کار پر نظرثانی کرنے اور شہریوں کے تحفظ کو مزید یقینی بنانے پر مجبور کرے۔

اسرائیل کو اس سے قبل بھی دیگر ممالک کی جانب سے سخت تنقید کا سامنا رہا ہے، خاص طور پر غزہ پر حملوں کے دوران، جہاں وزارتِ صحت کے مطابق تقریباً 73 ہزار افراد ہلاک ہوئے، جن میں زیادہ تر عام شہری تھے۔

اسرائیل کا مؤقف ہے کہ وہ عام شہریوں کو نشانہ نہیں بناتا اور اس کا دعویٰ ہے کہ حماس اور حزب اللہ جیسی مسلح تنظیمیں شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرتی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں