غزہ میں رہنے والے لوگ محض زندہ رہنے کے بجائے اپنا کھویا ہوا "وقار" دوبارہ حاصل کرنے کے مستحق ہیں، اقوامِ متحدہ کے امدادی سربراہ نے جمعرات کو انسانی امداد کی تقسیم میں اسرائیلی رکاوٹوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا۔
ٹام فلیچر نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے تسلیم کیا کہ 10 اکتوبر کو اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی نافذ ہونے کے بعد سے امداد کی روانی میں بہتری آئی ہے اور ہر روز اوسطاً 100 ترسیلات فلسطینی سرزمین میں داخل ہو رہی ہیں۔
لیکن انہوں نے کہا، "فلسطینیوں کو جو ضرورت ہے اور جو ہم فراہم کر سکتے ہیں - اور بین الاقوامی قانون جو مطالبہ کرتا ہے، اس لحاظ سے یہ کمزور فوائد کم ترین سطح پر ہیں۔"
فلیچر نے مزید کہا، "ہم ایک ایسی دنیا کے خواہشمند نہیں ہیں جہاں بچوں کو زندہ رہنے کے لیے کافی مقدار میں کیلوریز تو میسر ہوں اور وہ مسلسل بمباری سے محفوظ ہوں لیکن وہ بھوکے، چوہوں کے کاٹنے سے زخمی، بے گھر اور سکول سے محروم ہوں۔"
نیز کہا، "ہتھیاروں کو خاموش کرنا کافی نہیں ہے - ہمیں وقار بحال کرنا ہو گا۔"
فلیچر نے خاص طور پر غزہ میں تمام راہداریاں کھولنے اور طبی آلات اور ایندھن جیسے سامان کے داخلے پر سے اسرائیلی پابندیاں فوراً ہٹانے کا مطالبہ کیا۔
غیر سرکاری تنظیم آکسفیم کی افسر برائے انسانی ہمدردی بشریٰ خالدی سلامتی کونسل سے خطاب کے لیے مدعو تھیں۔ انہوں نے رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ "جلدی، جرأت سے اور انسانیت کے ساتھ" کام کریں۔