مصر، سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے وزرائے خارجہ کا قاہرہ میں اتوار کو اہم اجلاس طلب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

مصر نے اعلان کیا ہے کہ اس کے وزیر خارجہ اتوار کو بحیرہ روم کے ساحلی شہر العلمین میں سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے اپنے ہم منصبوں سے ملاقات کریں گے۔

مصری وزارت خارجہ نے جمعہ کو ایک بیان میں وضاحت کی کہ وزیرخارجہ بدر عبد العاطی اتوار کو چار ملکی اجلاس میں سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان، ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان پاکستان کے وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار سے ملاقات کریں گے۔

وزارت نے مزید بتایا کہ اجلاس کے بعد ایک وسیع تر مذاکراتی سیشن اور پھر پریس کانفرنس ہوگی تاہم انہوں نے مذاکرات کے ایجنڈے کی تفصیلات نہیں بتائیں۔ واضح رہے کہ یہ چاروں ممالک مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کو کم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

سوئٹزرلینڈ میں مذاکرات منسوخ

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ اور ایران نے بدھ کی رات اس جنگ کو روکنے کے لیے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے تھے۔ اس کے بعد تکنیکی مذاکرات کا سلسلہ شروع ہونا تھا جن کا آغاز آج سوئٹزرلینڈ میں متوقع تھا۔

تاہم سوئس وزارت خارجہ نے آج قبل ازیں اعلان کیا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان پہاڑی ریزورٹ بورجن اسٹاک میں ہونے والے مذاکرات منسوخ کر دیے گئے ہیں۔ البتہ وزارت نے تصدیق کی کہ وہ ان مذاکرات کے انعقاد میں سہولت کاری کے لیے بدستور تیار ہیں اور بورجن اسٹاک میں اس سے متعلقہ تیاریوں کا کام جاری ہے۔

دوسری جانب وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے وضاحت کی کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے سوئٹزرلینڈ میں ایرانی مذاکرات کاروں سے ملاقات کے لیے طے شدہ دورہ منسوخ کر دیا ہے۔ جے ڈی وینس کے اعلان سے قبل ایک ایرانی ذریعے نے انکشاف کیا تھا کہ ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق ایرانی مذاکرات کاروں کو امریکہ کی جانب سے عبوری معاہدے پر عمل درآمد کے عزم کے اشارے دیکھنے کی ضرورت ہے۔

توقع تھی کہ یہ مذاکرات 60 روزہ بات چیت کے مرحلے کا آغاز کریں گے تاکہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان طے پانے والے ابتدئی معاہدے پر عمل درآمد کیا جا سکے جس کا مقصد سنہ 2025ء کی فروری کے آخر میں امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے شروع کی گئی جنگ کا خاتمہ کرنا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں