پیرس کی منظوری کے بغیر تہران پر عائد سلامتی کونسل کی پابندیاں نہیں ہٹیں گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

جہاں ایک طرف ایران امریکہ کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کے نتیجے میں اپنے اوپر عائد بعض پابندیاں ختم ہونے کا منتظر ہے وہیں فرانسیسی وزیر خارجہ جان نويل بارو نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ان کا ملک تہران پر عائد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی پابندیاں ہٹانے پر اس وقت تک رضا مند نہیں ہوگا جب تک وہ اس بات پر مطمئن نہ ہو جائے کہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق مذاکرات اس کی توقعات پر پورا اترتے ہیں۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ویٹو کا حق رکھنے والے ملک فرانس کے وزیر خارجہ بارو نے جمعہ کو ریڈیو سٹیشن "فرانس انفو" سے گفتگو کرتے ہوئے یہ رائے بھی دی کہ خطے میں اس وقت تک کوئی استحکام نہیں آئے گا جب تک امریکہ ایران مذاکرات کے نتیجے میں ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور اپنے اتحادی مسلح گروہوں کے لیے تہران کی حمایت سے متعلق امور کا کوئی حل نہ نکل آئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں ایران کے موقف میں ایک بنیادی تبدیلی کی ضرورت ہے۔

لبنان کا محاذ

فرانسیسی وزیر نے جنوبی لبنان اور بقاع کو نشانہ بنانے والی نئی اسرائیلی فضائی کارروائیوں کے بعد اسرائیل پر زور دیا کہ وہ امریکی اور ایرانی فریقین کے مابین بدھ کو دستخط شدہ معاہدے کے پروٹوکول کی پابندی کرے جس میں لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ روکنے کی شرط رکھی گئی ہے۔ ’اے ایف پی‘ کے مطابق انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ معاندانہ کارروائیوں کو روکنے کی شرط عائد کرتا ہے اور اسرائیلی حکومت کو اس کی پابندی کرنی چاہیے اور خاص طور پر امریکہ کو اسرائیلی حکومت پر ایسا کرنے کے لیے ہر ممکن ضروری دباؤ ڈالنا چاہیے۔

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو نے گذشتہ روز اپنے اس موقف کا اعادہ کیا تھا کہ اسرائیلی افواج لبنان میں جب تک ضروری ہوا موجود رہیں گی ۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تل ابیب جنوبی لبنان میں ایک سکیورٹی زون برقرار رکھے گا اور وہاں سے پیچھے نہیں ہٹے گا جب تک اسرائیل کی سکیورٹی ضروریات کا یہ تقاضا ہوگا۔

امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمت کی یادداشت جس پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے ایرانی ہم منصب مسعود پزشکیان نے بدھ کی رات دستخط کیے تھے اس میں لبنان سمیت تمام محاذوں پر سیز فائر یعنی جنگ بندی کی شرط رکھی گئی تھی۔

اس یادداشت کی 14 شقوں میں سے ایک شق میں امریکہ کے اس عہد کا بھی ذکر تھا کہ وہ تہران پر عائد تمام قسم کی پابندیاں ختم کر دے گا جس میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادیں اور انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے بورڈ آف گورنرز کے فیصلے اور تمام یکطرفہ بنیادی و ثانوی امریکی پابندیاں شامل ہیں جو حتمی معاہدے کے حصے کے طور پر ایک متفقہ ٹائم لائن کے مطابق ختم کی جائیں گی۔

اس میں یہ بھی اشارہ کیا گیا تھا کہ امریکہ مفاہمت کی یادداشت پر دستخط ہوتے ہی اور پابندیوں کے باقاعدہ خاتمے تک اس بات کا پابند ہوگا کہ امریکی محکمہ خزانہ ایرانی خام تیل، پیٹرولیم مصنوعات، اس کے مشتقات اور ان سے جڑی تمام خدمات بشمول بینکنگ ٹرانزکشنز، انشورنس اور ٹرانسپورٹ وغیرہ کی برآمد کے لیے چھوٹ جاری کرے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں