"میں لیڈر ہوں"... جی سیون کے رہنماؤں کو حیران کر دینے پر ٹرمپ کی وضاحت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

فرانس میں چند روز قبل منعقدہ جی سیون سربراہی اجلاس کے دوران ایک وڈیو منظر عام پر آئی جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اجلاس میں شریک عالمی رہنماؤں کو یہ کہہ کر حیران کر دیا کہ "میں لیڈر ہوں"۔ اس واقعے کی وسیع پیمانے پر تشہیر کے بعد ٹرمپ نے تفصیلات واضح کی ہیں۔

امریکی صدر نے جمعہ کے روز axios کو وڈیو انٹرویو میں بتایا کہ وہ ہال میں داخل ہوئے جہاں دنیا بھر سے آئے درجنوں رہنما خاموشی سے بیٹھے تھے، تو انہوں نے ان کے ساتھ مذاق کرنا چاہا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کا یہ مطلب ہرگز نہیں تھا کہ وہ ان تمام رہنماؤں کے صدر ہیں... یہ محض ایک مذاق تھا۔
جب انٹرویو میزبان نے پوچھا کہ اجلاس میں موجود کتنے رہنماؤں نے آپ کے اس قول "میں صدر ہوں" کو سچ سمجھ لیا؟ تو ٹرمپ نے جواب دیا کہ سب نے مجھ پر یقین کر لیا حالانکہ میں مذاق کر رہا تھا اور میرا مقصد صدر کے طور پر برتاؤ کرنا نہیں تھا، لیکن یہ جملہ پوری دنیا میں پھیل گیا۔

ٹرمپ اپنی سرکاری ملاقاتوں کے دوران اکثر لطیفے سنانے اور مذاق کرنے کے لیے جانے جاتے ہیں۔ یہ بھی مشہور ہے کہ وہ بعض اوقات سربراہان مملکت کو شرمندہ بھی کر دیتے ہیں، جیسا کہ گذشتہ سال یوکرینی صدر ولودی میر زیلنسکی کے ساتھ ہوا تھا، جب انہوں نے وائٹ ہاؤس کے دورے کے دوران کیمروں کے سامنے سرعام انہیں ڈانٹا تھا۔ یہ صورتحال یوکرین اور روس کے درمیان جنگ روکنے کے لیے رعایتیں دینے کی ضرورت پر ان کے درمیان جاری شدید اختلاف کے دوران پیش آئی تھی۔

اس کے علاوہ حال ہی میں ٹرمپ اور اطالوی وزیر اعظم جورجیا میلونی کے تعلقات میں بھی شدید کشیدگی دیکھی گئی ہے۔ امریکی صدر نے ایک مقامی اطالوی ٹی وی کو دیے گئے بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ جی سیون سربراہی اجلاس کے دوران میلونی نے ان کے ساتھ تصویر کھنچوانے کے لیے ان سے منت سماجت کی تھی، جس پر انہوں نے ترس کھا کر ان کی خواہش پوری کر دی۔ اس پر اطالوی رہنما نے سخت رد عمل دیتے ہوئے تصدیق کی کہ ان کی بات بے بنیاد ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں