امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ ان آٹھ تنازعات میں سب سے زیادہ مشکل تھی جن کے بارے میں ان کا دعویٰ ہے کہ وہ انہیں ختم کرانے میں کامیاب رہے۔ ان کے بقول تہران کے ساتھ حالیہ مفاہمتی یادداشت درحقیقت ’’ایران کی غیر مشروط پسپائی‘‘ کے مترادف ہے۔
نئی صدارتی طیارے کی رونمائی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ طے پانے والے معاہدے نے ایسی جنگ کا خاتمہ کیا جس کی بھاری قیمت امریکہ اور پورے خطے کو چکانا پڑی۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ اب بھی سفارتی حل کو ترجیح دیتا ہے، تاہم اگر تہران کے ساتھ جاری مذاکرات ناکام ہوئے تو واشنگٹن کے پاس دیگر آپشنز بھی موجود ہیں۔
ٹرمپ نے کہا: اگر ہم ایران کے ساتھ معاہدے تک نہ پہنچ سکے تو ہم ایسے اقدامات کریں گے جو انہیں پسند نہیں آئیں گے، لیکن مجھے نہیں لگتا کہ معاملہ وہاں تک پہنچے گا۔ ان کا یہ بیان ایران کے ساتھ طے شدہ مفاہمت پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے امریکی دباؤ کے تسلسل کی جانب اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔
PRESIDENT TRUMP on IRAN: 🇺🇸🇮🇷 In 60 days, they have to make a deal; otherwise, we will do things that won't make them happy. pic.twitter.com/rGbxXNx58T
— Donald J Trump Posts TruthSocial (@TruthTrumpPost) June 19, 2026
خلیجی اتحادیوں کی تعریف
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات کی قیادت کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان ممالک کے ساتھ واشنگٹن کے تعلقات ''بہت شاندار'' ہیں۔
انہوں نے خطے کے دارالحکومتوں کی جانب سے گزشتہ چند ماہ کے دوران کشیدگی میں کمی اور مذاکراتی عمل کی حمایت کو سراہا۔ٹرمپ نے ایران کے معاملے پر چین کے کردار کی بھی تعریف کی اور کہا کہ وہ اس موضوع پر بیجنگ کے مثبت مؤقف کے معترف ہیں۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ وہ رواں سال کے دوران ترکیہ کا دورہ کرنے اور بعد ازاں دوبارہ چین جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ ان کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات مضبوط ہیں، اگرچہ لبنان میں جنگ کے انتظام اور ایران کے ساتھ مذاکرات کے طریقۂ کار پر حالیہ ہفتوں میں بعض اختلافات سامنے آئے ہیں۔
آبنائے ہرمز میں غیر معمولی سرگرمی
اقتصادی پہلو پر بات کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ تہران کے ساتھ مفاہمت کے بعد آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
ان کے مطابق اس وقت تقریباً 700 جہاز اس اہم بحری گزرگاہ سے گزر رہے ہیں اور عالمی منڈیوں کو تیل کی فراہمی دوبارہ بھرپور انداز میں بحال ہو گئی ہے۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ اس پیش رفت کے نتیجے میں آئندہ عرصے میں تیل کی قیمتوں میں مزید کمی آنے کا امکان ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز کو بتدریج دوبارہ کھولا گیا اور تجارتی جہاز رانی کی سرگرمیاں بحال ہونا شروع ہو گئی ہیں۔
دوسری جانب ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ''ٹروتھ سوشل'' پر گردش کرنے والے بعض عوامی سرویز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کو وسیع عوامی حمایت حاصل ہے۔
ان کے مطابق امریکی عوام فوجی تنازعات کے خاتمے اور مذاکراتی راستہ اختیار کرنے کی پالیسی کی تائید کرتے ہیں۔یہ بیانات ایسے موقع پر سامنے آئے ہیں، جب واشنگٹن اور تہران مفاہمتی یادداشت کی شقوں پر عمل درآمد کے لیے تکنیکی مذاکرات شروع کرنے کی تیاری کر رہے ہیں، جبکہ عالمی برادری اس بات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے کہ آیا دونوں فریق ابتدائی معاہدے کو مستقل اور جامع تصفیے میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں۔