پاکستانی وزیر خارجہ نے "العریبہ" کو امریکہ ایران مذاکرات کے ماحول سے آگاہ کیا
اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان حتمی معاہدے تک پہنچنے پر یقین رکھتے ہیں
پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اعلان کیا ہے کہ ان کا ملک امریکہ اور ایران کو بات چیت پر قائل کرنے اور 60 روزہ جنگ بندی تک پہنچانے میں کامیاب ہو گیا ہے۔ العریبہ اور الحدث کو دیے گئے انٹرویو میں وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان 47 برسوں میں پہلی بار امریکہ اور ایران کو ایک میز پر لانے میں کامیاب رہا ہے اور واشنگٹن و تہران کے درمیان پاکستانی ثالثی پہلے دن سے ہی سرگرم تھی۔
اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ ہم نے ثالثی کو کامیاب بنانے کے لیے شراکت داروں اور اتحادیوں کے ساتھ مل کر کام کیا، کیونکہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ ہول ناک ثابت ہوتی اور اس کے معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوتے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں 3 تکنیکی ٹیمیں شریک ہیں جو جوہری معاملے، منجمد اثاثوں اور لبنان کے امور پر تبادلہ خیال کر رہی ہیں۔
وزیر خارجہ نے زور دیا کہ آبنائے ہرمز کی صورت حال جنگ سے قبل جیسی ہونی چاہیے اور 60 دن کے عرصے کے دوران وہاں کوئی ٹرانزٹ فیس عائد نہیں کی جائے گی اور نہ جہازوں کو گزرنے سے روکا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ چین بھی آبنائے ہرمز میں بغیر فیس کے دونوں سمتوں میں نقل و حمل کی آزادی کی حمایت کرتا ہے۔
اسحاق ڈار نے اسرائیل کے لبنان میں حملوں کو اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے ان کے خاتمے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ انہوں نے سعودی عرب، مصر اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ کے ساتھ مل کر مسئلہ غزہ کو دوبارہ اجاگر کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
ایرانی جوہری پروگرام کے بارے میں وزیر خارجہ نے بتایا کہ امریکہ نے ایران کے ذخیرے کو منتقل کرنے کا مطالبہ کیا تھا، تاہم اب 'افزودگی میں کمی' کا حل نکال لیا گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کے جوہری ذخیرے کی افزوددگی کی شرح کم کرنے پر اتفاق ہو گیا ہے اور یہ ذخیرہ بدستور زمین کے نیچے محفوظ ہے۔
اسحاق ڈار نے بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ خود ان مذاکرات کی نگرانی کر رہے تھے اور دونوں ممالک اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ سفارت کاری ہی واحد حل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت مثبت سمت میں آگے بڑھے گی، اگرچہ آگے کا راستہ زیادہ مشکل ہو سکتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مشرق وسطیٰ میں جنگ پوری دنیا کو متاثر کرتی ہے، اس لیے ہم اسے مزید بگڑنے سے روکنا چاہتے ہیں۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان مفاہمت کی یاد داشت میں کوئی بھی منفی چیز نہیں ہے اور ایران پر عائد پابندیوں کے معاملے پر امریکہ کے ساتھ دو طرفہ بات چیت کی جائے گی۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ سعودی عرب، قطر، مصر اور متحدہ عرب امارات نے ثالثی کی کوششوں کی حمایت کی ہے اور انہیں مذاکرات کے نتائج سے مسلسل آگاہ رکھا جا رہا ہے۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ معاملات کافی حد تک آگے بڑھ چکے ہیں اور ہمیں تھوڑا صبر سے کام لینے کی ضرورت ہے تاکہ دونوں ممالک کے لیے اطمینان بخش نتائج تک پہنچا جا سکے۔
-
جب پاکستانی فضائیہ کے افسر نے 200 امریکی مسافروں کو بچایا
سوچیں آپ ہزاروں میل کی بلندی پہ محو پرواز ہوں اور جہاز میں اچانک ہنگامہ برپا ہو ...
پاكستان -
پاکستان پیپلز پارٹی نے امجد حسین کو وزیرِ اعلیٰ گلگت بلتستان نامزد کر دیا
وہ پارٹی کے گلگت بلتستان چیپٹر کے صوبائی صدر ہیں
پاكستان -
امریکی ایرانی مذاکرات کی حمایت میں سعودی عرب، مصر، پاکستان اور ترکیہ کا مشترکہ اعلامیہ
سعودی عرب، مصر، پاکستان اور ترکیہ نے ایک مشترکہ چار فریقی اعلامیہ جاری کیا ہے جس ...
مشرق وسطی