کنگ چارلس پہلی بار اپنے ٹیکس گوشوارے عوام کے سامنے لائیں گے
بکنگھم پیلس کا شفافیت اور احتساب کو فروغ دینے کا فیصلہ
برطانیہ کے شاہی خاندان کے ترجمان نے کہا ہے کہ بادشاہ چارلس جمعرات کو پہلی بار عوام کے سامنے یہ ظاہر کریں گے کہ بطور بادشاہ وہ کتنا ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ بکنگھم پیلس کا یہ اقدام شفافیت اور احتساب کو فروغ دینے کی ایک کوشش ہے۔
قانون بادشاہ چارلس کو انکم ٹیکس، کیپٹل گینز ٹیکس یا ملکہ الزبتھ سے ورثے میں ملنے والی جائیداد پر انہریٹنس ٹیکس ادا کرنے کا پابند نہیں کرتا، تاہم انہوں نے رضاکارانہ طور پر اپنے نجی اثاثوں کی فروخت پر انکم ٹیکس اور کیپٹل گینز ٹیکس ادا کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
ان تفصیلات کا اعلان سالانہ شاہی کھاتوں کے حصے کے طور پر کیا جائے گا جن کی اشاعت جمعرات کو متوقع ہے۔
کنگ چارلس اپنی نجی زمینوں، جائیدادوں اور سرمایہ کاری سے ذاتی آمدنی حاصل کرتے ہیں، اس کے علاوہ انہیں سنہ 2025-2026ء کے مالی سال میں اپنے شاہی فرائض کی انجام دہی کے لیے حکومت سے 132 ملین برطانوی پاؤنڈ (175 ملین ڈالر) کی رقم ملی ہے۔
بکنگھم پیلس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد ہماری اکاؤنٹنگ کے بارے میں عوامی سمجھ بوجھ کو فروغ دینا ہے۔
محل نے ذکر کیا کہ بادشاہ چارلس نے شہزادہ ویلز کے طور پر اپنے دور میں بھی اپنے ٹیکس ادائیگیوں کے بارے میں معلومات فراہم کی تھیں اور اب بطور بادشاہ بھی وہ آنے والے برسوں میں ایسا جاری رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
برطانوی پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے گزشتہ برس شاہی خاندان کے افراد کو الاٹ کی گئی رہائشی جائیداد کے انتظامات کے حوالے سے ایک تحقیقات کا آغاز کیا تھا۔