ٹرمپ کی نیویارک ٹائمز پر تنقید... "جنگ نے سب کچھ بدل دیا ہے" : امریکی صدر کا دعویٰ
سوئٹزرلینڈ میں واشنگٹن اور تہران کے درمیان امن مذاکرات کے ساتھ ساتھ امریکی بیان بازی میں تیزی
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیویارک ٹائمز اخبار پر سخت تنقید کی ہے اور اس بات کو مسترد کر دیا ہے جسے اخبار نے تقریباً چار ماہ سے جاری جنگ کے اثرات کو کم کرنے سے تعبیر کیا ہے۔ یہ موقف ایسے وقت سامنے آیا ہے جب سوئٹزرلینڈ میں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات جاری ہیں تاکہ ایک ایسے معاہدے تک پہنچا جا سکے جو فوجی تصادم کا خاتمہ کرے اور خطے میں کشیدگی کو کم کرے۔
ٹرمپ کا یہ بیان اخبار کی جانب سے ایک رپورٹ شائع کرنے کے بعد سامنے آیا جس کا عنوان یہ ظاہر کرتا ہے کہ تجزیہ کار یہ سمجھتے ہیں کہ جنگ کے مہینوں بعد ”بہت کم تبدیلی آئی ہے“۔ امریکی صدر نے اسے حقیقت سے دور قرار دیا ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ ایرانی فوجی صلاحیتوں کو شدید ضربیں لگی ہیں اور بحری و فضائی افواج، میزائل لانچنگ پلیٹ فارمز، ڈرون طیارے اور اس سے متعلقہ بنیادی ڈھانچہ بڑے پیمانے پر تباہ ہو چکا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے ایرانی اقتدار کے اعلیٰ ترین درجے پر موجود قیادت کے نقصان کی طرف بھی اشارہ کیا۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ ایرانی معیشت شدید دباؤ کا شکار ہے، مہنگائی کی شرح میں اضافہ اور مالی حالات میں گراوٹ دیکھی جا رہی ہے۔ انہوں نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے تسلسل اور تیل کی برآمدات کے بہاؤ کی جانب اشارہ کیا۔
یہ بیان ان سیاسی اور عسکری دباؤ کے سائے میں سامنے آیا ہے جو ٹرمپ نے گذشتہ ہفتوں کے دوران استعمال کیے ہیں، جہاں انہوں نے دھمکی دی ہے کہ اگر تہران کے ساتھ جاری بات چیت ناکام ہوئی تو مزید سخت اقدامات کیے جائیں گے۔
مبصرین کا خیال ہے کہ امریکہ کے صدر کا سخت لہجہ واشنگٹن کے مذاکراتی موقف کو مضبوط کرنے اور ان تزویراتی کامیابیوں کو اجاگر کرنے کے لیے ہے جنہیں امریکی انتظامیہ نے جنگ کے دوران حاصل کیا ہے۔
ٹرمپ نے اپنی تنقید کا اختتام نیویارک ٹائمز پر یہ الزام لگاتے ہوئے کیا کہ وہ ان چیزوں کو نظر انداز کر رہا ہے جنہیں انہوں نے ”زمینی حقائق“ قرار دیا۔ امریکی صدر نے اس بات کی تصدیق کی اخبار کی رپورٹ کے برعکس، جنگ کے نتائج عسکری اور معاشی دونوں سطحوں پر بڑے اور مؤثر رہے ہیں۔