امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برطانوی وزیر اعظم کیر سٹارمر کے استعفے کی خبروں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ہجرت اور توانائی کے مسائل میں بری طرح ناکام رہے۔ انہوں نے مستقبل میں ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل" پر اپنی ایک پوسٹ میں ٹرمپ نے لکھا کہ کیئر سٹارمر برطانیہ کے وزیر اعظم کے عہدے سے استعفیٰ دے دیں گے، وہ دو انتہائی اہم موضوعات ہجرت اور توانائی (بحیرہ شمال کے تیل کے کنویں کھولنا!) پر بری طرح ناکام رہے ہیں۔ میں ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتا ہوں!
چھٹیوں کے دوران غور
اس سے قبل ایک سینئر برطانوی وزیر نے بتایا کہ وزیر اعظم کیئر سٹارمر ہفتے کے آخر کی چھٹیوں کے دوران اس سیاسی حقیقت پر غور کر رہے ہیں جس کا انہیں سامنا ہے۔ میڈیا رپورٹس میں چند دنوں کے اندر ان کے ممکنہ استعفے کا ذکر کیا گیا ہے۔
برطانیہ کے کاروباری اور تجارتی وزیر پیٹر کائل نے اتوار کو کہا کہ سٹارمر سیاسی حقیقت، چیلنجوں اور ان مواقع پر غور کرنے کے لیے اپنا وقت لے رہے ہیں جن کے سامنے وہ خود کو پا رہے ہیں۔
اخبار "دی آبزرور" نے اپنے صفحہ اول پر لکھا ہے کہ کیئر سٹارمر سے اگلے دن استعفیٰ دینے کی توقع ہے۔ جبکہ "سنڈے ٹیلی گراف" نے ان کے اتحادیوں کے حوالے سے بتایا ہے کہ وہ عہدہ چھوڑنے کے لیے تیار ہیں۔
روانگی کا ٹائم
"دی آبزرور" نے ذکر کہا کہ سٹارمر روانگی کی ایک ٹائم لائن کا تعین کریں گے۔ وہ ہفتے کے آخر میں برطانوی وزرائے اعظم کی دیہی رہائش گاہ، چیکرز سے بات چیت کر رہے ہیں۔ یہ پیش رفت سٹارمر پر بڑھتے ہوئے دباؤ کے ہفتوں بعد سامنے آئی ہے جہاں لیبر پارٹی کے تقریباً 100 ارکان پارلیمنٹ نے ان سے استعفے کا مطالبہ کیا تھا۔ برطانوی وزیر ٹرانسپورٹ ہائیڈی الیگزینڈر کابینہ کی پہلی رکن بن گئی ہیں جنہوں نے کیئر سٹارمر سے اپنا عہدہ چھوڑنے کا مطالبہ کیا ہے۔