امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز کہا ہے کہ اگر ایران واشنگٹن کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کی پابندی نہیں کرتا تو وہ وہی کریں گے جو انہیں کرنا ہوگا۔
انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایران معاہدے کی خلاف ورزی کرے یا مناسب رویہ اختیار نہ کرے تو وہ ضروری اقدامات کریں گے۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران امریکا کا احترام کرتا ہے تو کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ امریکا نے ایران کی بڑی عسکری صلاحیتوں کو ختم کر دیا ہے، ان کے مطابق ایران کی پہلی، دوسری اور تیسری سطح کی قیادت کو بھی ختم کیا جا چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ ایران کے معاملے کو ڈیموکریٹس کے مقابلے میں بالکل مختلف انداز سے دیکھتے ہیں۔آبنائے ہرمز کے حوالے سے ٹرمپ نے کہا کہ یہ راستہ مکمل طور پر کھلا ہے اور صورتحال بہتر ہے۔ ان کے مطابق ایران آبنائے ہرمز کے معاملے میں اچھا کردار ادا کر رہا ہے۔
دوسری جانب سوئٹزرلینڈ میں امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے پہلے دور کے مذاکرات کے اختتام پر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ تہران نے آئی اے ای اے کے معائنہ کاروں کی واپسی پر آمادگی ظاہر کی ہے۔
مذاکرات کے بعد ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی عمان روانہ ہو گئے، جہاں وہ آبنائے ہرمز سے متعلق ترتیبات اور سوئٹزرلینڈ مذاکرات کے بعد ہونے والی مفاہمتوں پر بات چیت کریں گے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق قالیباف سلطان ہیثم بن طارق سے بھی ملاقات کریں گے، جس میں دوطرفہ تعلقات، خطے کی صورتحال، سمندری گزرگاہوں کی سکیورٹی اور تعاون بڑھانے کے امور پر غور کیا جائے گا۔
طے پایا ہے کہ فنی سطح کے مذاکرات پیر کے روز شروع ہوں گے، جو 60 روزہ مذاکراتی عمل کا حصہ ہوں گے۔ اس عمل کا مقصد مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کے طریقہ کار پر بات چیت کرنا ہے، جس میں جوہری پروگرام، آبنائے ہرمز میں بحری سلامتی اور دیگر علاقائی امور شامل ہیں۔
وسطی کردار ادا کرنے والے فریقین نے پیر کے روز سوئٹزرلینڈ میں امریکا اور ایران کے اعلیٰ حکام کے درمیان ہونے والے پہلے دور کے مذاکرات کے اختتام کا اعلان کیا۔
قطر اور پاکستان کی جانب سے جاری مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکا اور ایران نے 60 دن کے اندر حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے ایک روڈ میپ پر اتفاق کیا ہے۔
قطری وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق فنی مذاکرات سوئس پہاڑی ریزورٹ بورگن شٹوگ میں ہفتے کے باقی دنوں تک جاری رہیں گے۔