پاکستان ’اپنی نوعیت کی اولین‘ سندھ طاس معاہدہ کانفرنس کی میزبانی کرے گا
عالمی آبی اور قانونی ماہرین شرکت کریں گے، بھارت کی خلاف ورزیاں نمایاں کی جائیں گی
اسلام آباد منگل کو "اپنی نوعیت کی اولین" سندھ طاس معاہدہ کانفرنس کی میزبانی کرے گا جس میں تمام دنیا سے آبی اور قانونی ماہرین شامل ہوں گے، یہ بات پاکستانی وفاقی وزراء نے ملک کی پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کو منظم کرنے کے لیے ڈیموں کی تعمیر پر اتفاق رائے پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہی۔
پاکستان نے خبردار کیا ہے کہ وہ پاکستان کے حصے کا پانی روک کر یا اس کا رخ موڑ کر بھارت کو سندھ طاس معاہدے (آئی ڈبلیو ٹی) کی خلاف ورزی نہیں کرنے دے گا۔ 1960 میں طے کردہ انڈس واٹر ٹریٹی (آئی ڈبلیو ٹی) دونوں ممالک کے درمیان دریائے سندھ کے نظام سے پانی کی تقسیم کو کنٹرول کرتا ہے۔
پہلگام حملے کے بعد بھارت نے اپریل 2025 میں یکطرفہ طور پر اس معاہدے کو روکنے کا اعلان کیا تھا۔ پاکستان نے پہلگام حملے کے الزامات کی تردید کی اور حملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔ پاکستان نے خبردار کیا ہے کہ بھارت آئی ڈبلیو ٹی کے زیرِ احاطہ دریاؤں پر آبی ذخائر، توسیع اور پانی کا رخ موڑنے کے منصوبوں پر عمل پیرا ہے۔
ایک نیوز کانفرنس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ کانفرنس میں بین الاقوامی پانی اور قانونی ماہرین شرکت کریں گے۔
انہوں نے کہا، "اور اس سیمینار کے تحت آگاہی دی جائے گی کہ سندھ طاس معاہدے کے مطابق پاکستان کا پانی پر، دریاؤں پر کیا حق ہے، اس کی نوعیت اور اس کے مختلف پہلو کیا ہیں۔ اس لیے یہ اپنی نوعیت کا پہلا بین الاقوامی سیمینار ہے۔"
وزیر نے کہا، جب بین الاقوامی سطح پر آئی ڈبلیو ٹی پر بات ہوتی ہے تو عالمی ماہرین پاکستان کے آبی حقوق تسلیم کرتے ہیں۔ یہ "بیانیے کے محاذ" پر اسلام آباد کی فتح ہے۔
تارڑ کے ہمراہ موسمیاتی تبدیلی کے وزیر ڈاکٹر مصدق ملک نے خبردار کیا کہ پاکستان بھارت کو پانی کی روانی نہیں روکنے دے گا۔
انہوں نے کہا، "ہم پہلے ہی اعلان کر چکے ہیں کہ جو بھی ہمارے پانی کو چھوئے گا ہم اس کے ہاتھ کاٹ دیں گے۔"
ملک نے سیاسی جماعتوں کے درمیان پاکستان میں ڈیموں کی تعمیر پر اتفاقِ رائے پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا، ڈیم خاص طور پر ضروری ہیں کیونکہ وہ اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ کسانوں کے لیے پانی کا ذخیرہ دستیاب ہو جب انہیں سال کے مخصوص اوقات میں کھیتوں کے لیے اس کی ضرورت ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا، "ہمیں کم از کم اس بات پر اتفاق کرنا چاہیے کہ ہمیں پانی [کی روانی] منظم کرنے کی اور ڈیموں کی ضرورت ہے۔ ان شاء اللہ اس حوالے سے کسی سیاسی جماعت سے کوئی تنازعہ نہیں ہو گا۔"
-
ایران جنگ کے دوران پاکستانی بندرگاہ نےرواں مالی سال میں ریکارڈ 54.7 ملین ٹن کارگوہینڈل کیا
کارکردگی اور بندرگاہ کی صلاحیت میں اضافہ اور مؤثر انتظام اس کامیابی کی وجہ ہیں
پاكستان -
پاکستان کا افغانستان کے ساتھ سرحد پر سکیورٹی آپریشن... 29 مسلح افراد ہلاک
پاکستان نے اعلان کیا ہے کہ اس کی سکیورٹی فورسز نے پاک افغان سرحد کے ساتھ خفیہ ...
پاكستان -
پاکستان اپوزیشن اتحاد: پولیس نے رہنماؤں کو آزاد کشمیر کا دورہ کرنے سے روک دیا
جے اے اے سی کی تحریک سے خطہ حالیہ عرصے میں بدامنی سے متأثر ہوا ہے
مشرق وسطی