حزب اللہ کے ارکان 'قلعہ الشقیف' کے نیچے سرنگوں میں محصور ہیں : رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان لبنان میں فائر بندی کے کمزور معاہدے کے باوجود، اسرائیلی افواج نے جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے ٹھکانوں پر بم باری جاری رکھی ہے۔

اسرائیلی فوج نے اندازہ لگایا ہے کہ حزب اللہ کے 30 سے 40 ارکان قلعہ الشقیف کے نیچے واقع سرنگوں اور جنوبی لبنان میں سلسلہ علی الطاہر کے اندر دیگر مقامات پر محصور ہیں۔ یہ اطلاع اسرائیلی اخبار معاریف نے دی ہے۔

اسرائیلی فوج نے اعلان کیا کہ اس نے حزب اللہ کے ان متعدد ارکان کو ہلاک کر دیا ہے جنہوں نے اپنے ساتھیوں کو بچانے کے لیے ان سرنگوں تک پہنچنے کی کوشش کی تھی۔

ایک اسرائیلی فوجی ذریعے نے واضح کیا کہ 36 ویں ڈویژن کے جنگجوؤں نے گذشتہ دنوں حزب اللہ کے 10 ارکان کو ہلاک کیا، جو نبطیہ شہر کے علاقے سے نکلے تھے اور ان سرنگوں تک پہنچنے کی کوشش کر رہے تھے جن میں ان کے ساتھی محصور ہیں۔ تصدیق کی گئی ہے کہ ہلاک ہونے والے تمام افراد مسلح تھے۔
ذریعے نے کہا کہ اسرائیلی فوج فی الحال سرنگوں کے تمام دہانوں پر قابض ہے اور اندازہ ہے کہ محصور مسلح افراد نے اب تک ان سے باہر نکلنے کی کوشش نہیں کی ہے۔

فوجی ذریعے نے کہا کہ "وہ جانتے ہیں کہ ہم باہر سے سرنگوں کے دہانوں پر قابض ہیں، اس لیے ان کے وہاں سے باہر نکلنے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔"
ذریعے کے مطابق حزب اللہ فی الحال اسرائیلی افواج کے خلاف حملے کرنے سے گریز کر رہی ہے، خواہ وہ ٹینک شکن میزائل داغنا ہو یا بارودی ڈرونز کا استعمال۔ ذریعے نے واضح کیا کہ حزب اللہ جانتی ہے کہ اس نوعیت کا کوئی بھی حملہ لڑائی دوبارہ شروع ہونے کا باعث بنے گا... اور محصور مسلح افراد کو بھی خطرے میں ڈال سکتا ہے، کیونکہ یہ اسرائیلی فوج کو سرنگوں کو خود نشانہ بنانے پر اکسا سکتا ہے۔

اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹز پہلے ہی تصدیق کر چکے ہیں کہ اسرائیلی افواج لبنان میں سکیورٹی زون کے حصے کے طور پر اس قلعے میں موجود رہیں گی۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ قلعہ "جلیل کی بستیوں کے تحفظ کے لیے سب سے اہم تزویراتی مقامات میں سے ایک ہے"۔

واضح رہے کہ لبنان اور اسرائیل نے گذشتہ ہفتے امریکی سرپرستی میں اور 5 براہ راست مذاکراتی دور کے بعد 14 نکات پر مشتمل ایک معاہدے تک رسائی حاصل کی تھی، جس کے تحت دشمنی کے خاتمے، جنوبی لبنان میں لبنانی فوج کی تعیناتی اور تمام ہتھیاروں کی واپسی طے پائی تھی۔

معاہدے میں کچھ ایسے علاقوں سے جزوی اسرائیلی انخلاء بھی شامل تھا جنہیں تجرباتی قرار دیا گیا تھا، تاکہ ان میں لبنانی فوج تعینات ہو سکے اور نقل مکانی کرنے والوں کی واپسی کے ساتھ ساتھ ان کی بتدریج تعمیر نو کی جا سکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں