امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو (NATO) کے خلاف اپنی تنقید کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔
ٹرمپ نے جمعرات کے روز اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل" پر ایک پوسٹ میں کہا "امریکہ نیٹو اتحاد کی حفاظت کے لیے کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے میں کہیں زیادہ رقم خرچ کر رہا ہے، اور اس کے بدلے میں اسے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہو رہا۔"
انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ نے 999 ارب ڈالر خرچ کیے ہیں، جبکہ برطانیہ نے 90.5 ارب ڈالر، فرانس نے 66.5 ارب ڈالر، اٹلی نے 48.8 ارب ڈالر اور پولینڈ نے 44.3 ارب ڈالر خرچ کیے۔ انہوں نے کہا کہ جرمنی سمیت دیگر ممالک اس سے کہیں کم رقوم خرچ کر رہے ہیں۔ انہوں نے اپنی بات کا اختتام کرتے ہوئے اس معاملے کو "ناقابل یقین" قرار دیا۔
یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ امریکی صدر نے اس دفاعی اتحاد پر تنقید کی ہے۔ اپنی دوسری صدارتی مدت سنبھالنے کے بعد سے ہی وہ نیٹو کو تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں اور مطالبہ کرتے رہے ہیں کہ وہ دفاعی ضروریات پر اخراجات کا حجم بڑھائے۔ انہوں نے کئی بار نیٹو سے نکل جانے کی دھمکی بھی دی ہے۔
اس کے علاوہ ٹرمپ نے اس امکان کا بھی اشارہ دیا ہے کہ اگر نیٹو کا کوئی رکن ملک مدد طلب کرے تو ہو سکتا ہے کہ وہ انہیں فوجی مدد فراہم نہ کریں۔
تاہم ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ شروع ہونے اور آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد سے انہوں نے اپنی تنقید میں شدت پیدا کر دی ہے۔ ٹرمپ نے نیٹو ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس اہم اور تزویراتی آبی گزرگاہ کو کھولنے میں اپنا حصہ ڈالیں، لیکن زیادہ تر یورپی ممالک نے اس سے گریز کیا ہے، جس سے ان کے غصے میں مزید اضافہ ہوا ہے۔
-
ٹرمپ انتظامیہ کا غیر ملکی جاسوسوں کی ایک مرکزی فہرست بنانے کے لیے دباؤ
یہ دباؤFBI اور CIA کی مخالفت کے باوجود ڈالا جا رہا ہے
بين الاقوامى -
ٹرمپ کا کانگریس سے پیدائشی شہریت کے خلاف قانون سازی کا مطالبہ
پیدائشی شہریت کے خاتمے کا منصوبہ ٹرمپ کی امیگریشن مخالف پالیسیوں کا اہم حصہ
بين الاقوامى -
کانگریس کا بڑا فیصلہ، ٹرمپ کے لبنان میں فوجی اختیارات پر قدغن کی تجویز مسترد
امریکی ایوانِ نمائندگان نے منگل کے روز دوسری بار اس بل کو مسترد کر دیا ہے، جس کا ...
بين الاقوامى