کملا ہیرس اور 2028ء کے الیکشن کی دوڑ، کیا تاریخ کی جنگ شروع ہو چکی ؟
دکھائی دے رہا سابق نائب صدر نے پہلی امریکی خاتون طور پر اوول آفس تک پہنچنے کی کوشش شروع کردی
صدارتی انتخابات میں اپنی شکست کے دو سال سے بھی کم عرصے کے بعد امریکہ کی سابق نائب صدر کملا ہیرس یوں دکھائی دیتی ہیں جیسے انہوں نے وائٹ ہاؤس کی جانب اپنے راستے کی ازسرنو تشکیل کا آغاز وقت سے پہلے ہی کر دیا ہے۔ ان سرگرمیوں میں مبصرین دیکھ رہے ہیں کہ ان کا مقصد نہ صرف 2028ء کے انتخابات میں حصہ لینا ہے بلکہ وہ اس چیز کو حاصل کرنے کی کوشش بھی کر رہی ہیں جس میں ان سے پہلے نامزد ہونے والی تمام خواتین ناکام رہیں۔ وہ چیز پہلی خاتون کے طور پر امریکہ کی صدارت سنبھال کر اوول آفس تک پہنچنا ہے۔
اگرچہ کملا ہیرس نے باضابطہ طور پر الیکشن لڑنے کے اپنے ارادے کا اعلان نہیں کیا لیکن ڈیموکریٹک پارٹی کے ترقی پسند دھڑے کی ممتاز شخصیات کے ساتھ ان کے حالیہ رابطوں کے سلسلے نے ان کے سیاسی مستقبل کے بارے میں قیاس آرائیوں کا دروازہ دوبارہ کھول دیا ہے۔ خاص طور پر 2024ء کے انتخابات کے بعد پارٹی کے اندر ان کی سیاسی شناخت کے حوالے سے تصادم کے بڑھنے کے تناظر میں ان رابطوں نے قیاس آرائیاں بڑھا دی ہیں۔
نپا تلا کھلا پن
ویب سائٹ ’’ ایکسیوس ‘‘نے انکشاف کیا ہے کہ کملا ہیرس نے ڈیموکریٹک پارٹی کے مستقبل پر بحث کے لیے ترقی پسند دھڑے کے ابھرتے ہوئے نمایاں ترین چہروں میں سے ایک، نیویارک کے نو منتخب میئر زہران ممدانی کے ساتھ ایک خصوصی ٹیلی فونک گفتگو کی ہے۔ انہوں نے "ان کمٹڈ موومنٹ" (غیر وابستہ تحریک) سے وابستہ شخصیات کے ساتھ بھی نجی ملاقاتیں کیں۔ یہ موومنٹ غزہ میں جنگ کے حوالے سے سابق صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کی پالیسی کے خلاف احتجاج کے طور پر 2024ء کے انتخابات کے دوران ابھر کر سامنے آئی تھی۔
امریکی رپورٹ کے مطابق کملا ہیرس نے غزہ میں جنگ سے ہٹ کر دیگر معاملات میں بھی ڈیموکریٹک شخصیات سے مشاورت کی درخواست کی ہے۔ ان میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس، امریکی-چینی تعلقات اور لاطینی امریکہ کے معاملات شامل ہیں۔ یہ ایک ایسا اقدام ہے جو آنے والے مرحلے کی تیاری میں ایک وسیع تر سیاسی ایجنڈے کو دوبارہ ترتیب دینے کی ان کی کوششوں کی عکاسی کرتا ہے۔
2024ء کے انتخابات کا زخم
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ سرگرمیاں کملا ہیرس کے قریبی حلقے کے اندر اس بڑھتے ہوئے احساس کو ظاہر کرتی ہیں کہ ان کی گزشتہ صدارتی مہم کے سب سے بڑے مسائل میں سے ایک نوجوان اور ترقی پسند ووٹرز کے ایک حصے کا اعتماد کھونا تھا۔ خاص طور پر غزہ کی جنگ کے حوالے سے ڈیموکریٹک پارٹی میں نظر آنے والے اختلافات کے بعد ان پر اعتماد میں کمی آئی تھی۔
"ان کمٹڈ موومنٹ" کے بانیوں میں سے ایک عباس العلاویہ نے ویب سائٹ ’’ ایکسیوس ‘‘ کو بتایا کہ کملا ہیرس وہ شخصیت تھیں جنہوں نے مہینوں کے نجی رابطوں کے بعد ملاقات کی درخواست کی تھی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ انہوں نے بات چیت کے دوران ان پالیسیوں پر نظرثانی کی ضرورت پر اصرار کیا جن کی وجہ سے بعض ڈیموکریٹک ووٹرز کے اعتماد میں کمی آئی۔ دوسری جانب کچھ ترقی پسند آوازیں اب بھی واضح سیاسی نظرثانی کے بغیر خصوصاً خارجہ پالیسی اور غزہ کی جنگ سے جڑے معاملات میں بائیں بازو کا اعتماد بحال کرنے کی کملا ہیرس کی صلاحیت پر شک کر رہی ہیں۔
بدلتی ہوئی پارٹی
سابق امریکی نائب صدر ہیرس کی سرگرمیاں ڈیموکریٹک پارٹی میں رونما ہونے والی تبدیلیوں سے الگ تھلگ نہیں ہیں۔ برطانوی اخبار "دی گارڈین" کی جانب سے نقل کردہ امریکی رپورٹس اور تجزیوں کے مطابق یہ واضح ہوتا ہے کہ پارٹی ترقی پسند اور سوشل ڈیموکریٹک دھڑے کے بڑھتے ہوئے عروج کا مشاہدہ کر رہی ہے۔ خاص طور پر نیویارک، کولوراڈو اور دیگر ریاستوں میں اس دھڑے کی حمایت یافتہ امیدواروں کی انتخابی کامیابیوں کے بعد ترقی پسند اور سوشل ڈیموکریٹک دھڑے کا عروج واضح ہو رہا ہے۔
مبصرین کا خیال ہے کہ یہ تبدیلی کسی بھی ممکنہ ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار کو ترقی پسند سے متعلق ووٹر بیس کے ساتھ اپنے تعلقات کا دوبارہ جائزہ لینے پر مجبور کرتی ہے۔ یہ ترقی پسند ووٹر اب چند سال پہلے کے مقابلے میں زیادہ سیاسی اور انتخابی اثر و رسوخ کی حامل ہو چکے ہیں۔
وقت سے پہلے کی دوڑ
اگرچہ امریکی صدارتی انتخابات میں ابھی دو سال سے زیادہ کا وقت باقی ہے لیکن ابتدائی رائے عامہ کے جائزے کملا ہیرس کو 2028ء کے انتخابات کے لیے ممکنہ ڈیموکریٹک ناموں میں نمایاں ترین مقام پر رکھتے ہیں۔ مخصوص پلیٹ فارمز کی طرف سے جمع کیے گئے رائے عامہ کے جائزوں کے اوسط کے مطابق کملا ہیرس متعدد ابتدائی جائزوں میں سرفہرست ہیں یا پہلی پوزیشن کے لیے مقابلہ کر رہی ہیں۔ وہ کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوسم، سابق وزیر ٹرانسپورٹ پیٹ بوٹیجیج اور ترقی پسند خاتون رکن پارلیمنٹ الیگزینڈریا اوکاسیو کورٹیز جیسی ممتاز شخصیات سے آگے ہیں۔
مئی 2026ء میں تنظیم ’’ فیئر ووٹ ‘‘ کے لیے ’’ لیک ریسرچ پارٹنرز ‘‘ فاؤنڈیشن کی طرف سے کرائے گئے ایک سروے سے ظاہر ہوا کہ کملا ہیرس اور نیوسم ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر مقابلے میں سب سے آگے ہیں۔ یہ گزشتہ صدارتی انتخابات ہارنے کے باوجود ڈیموکریٹک ووٹرز کے اندر ان کی مضبوط موجودگی کے برقرار رہنے کا عندیہ ہے۔ تاہم تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ کملا ہیرس کے سامنے سب سے بڑا چیلنج عام انتخابات جیتنا نہیں ہوگا، بلکہ سب سے پہلے ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر ایک پیچیدہ اندرونی معرکے کا فیصلہ کرنا ہوگا۔ ڈیموکریٹ پارٹی گہری نظریاتی تبدیلیوں اور روایتی اسٹیبلشمنٹ اور ترقی پسند دھڑے کے درمیان بڑھتے ہوئے تصادم کا سامنا کر رہی ہے۔
تاریخی خواب
کملا ہیرس کے لیے 2028ء میں کوئی بھی ممکنہ نامزدگی محض 2024ء کی ہار کے بعد سیاسی واپسی کی کوشش نہیں ہوگی بلکہ یہ ایک بے مثال تاریخی کامیابی حاصل کرنے کا ایک نیا موقع بھی ہوگی۔ کیونکہ ان کی جیت کی صورت میں وہ امریکہ کی صدارت سنبھالنے والی پہلی خاتون بن جائیں گی اور افریقی اور جنوبی ایشیائی نژاد پہلی امریکی صدر ہوں گی۔ وہ پہلے ہی 2021ء میں پہلی خاتون اور پہلی افریقی و ایشیائی نژاد امریکی کے طور پر امریکی نائب صدر کا عہدہ سنبھال کر تاریخ رقم کر چکی ہیں۔
کملا ہیرس نے ابھی تک اپنے حتمی فیصلے کا اعلان نہیں کیا ہے تاہم ایسا لگتا ہے کہ ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر اب یہ سوال نہیں رہا کہ آیا وہ صدارتی دوڑ میں شامل ہوں گی یا نہیں بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا وہ ڈیموکریٹک ارکان کو یہ یقین دلانے میں کامیاب ہو جائیں گی کہ وہ پارٹی کے مستقبل کی نمائندگی کرتی ہیں۔