اس وقت جب ایران اپنے سابق رہبر علی خامنہ ای کی آخری رسومات جاری رکھے ہوئے ہے، ملک ایک ایسے پیچیدہ منظر نامے کے مرکز میں کھڑا ہے جہاں سفارتی عمل کا جمود اور آئل ٹینکرز کی جنگ کا بحران آپس میں مل گئے ہیں۔
عالمی منڈیوں میں جنگ کے رکنے کے بعد بتدریج سکون لوٹ آیا ہے۔ خام تیل کی قیمتیں جنگ کے آغاز سے قبل کی سطح پر واپس آ گئی ہیں۔ خلیجی ممالک میں بڑے پروڈیوسرز نے بند کنوؤں کو دوبارہ فعال کر دیا ہے اور آبنائے ہرمز سے تیل بردار جہازوں کی نقل و حرکت میں تیزی آ گئی ہے۔
تاہم ’وال اسٹریٹ جرنل‘ کی شائع کردہ ایک رپورٹ کے مطابق مکمل استحکام کا انحصار عالمی تیل کے ذخائر کی بحالی پر ہے، ایک ایسا عمل جس میں مہینوں یا برسوں کا وقت لگ سکتا ہے۔
یہ بحالی توانائی کی فائل اور واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکراتی توازن کے کارڈز کو بدل رہی ہے۔ دونوں فریقوں کے درمیان طاقت کے توازن کو نئے سرے سے تشکیل دینے میں ذخائر کے کردار کو تقویت دے رہی ہے جو کہ تہران کی توقعات کے برعکس ہے۔
وال اسٹریٹ جورنال کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں تیل کے ذخائر کا حجم امریکہ اور ایران کے درمیان طاقت کے متحرک عمل میں مرکزی کردار ادا کر رہا ہے۔ جتنی تیزی سے ممالک اپنے خام تیل کے ذخائر کو دوبارہ بھریں گے، آبنائے ہرمز پر اجارہ داری کے ذریعے عالمی معیشت کو دھمکانے کی ایران کی صلاحیت اتنی ہی کمزور ہوتی جائے گی۔
تیل کی ذخیرہ اندوزی اور مذاکراتی طاقت
گذشتہ ہفتے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے واضح طور پر تیل کی ذخیرہ اندوزی اور مذاکراتی طاقت کے درمیان تعلق جوڑنے کی بات کی تھی۔
’جے ڈی وینس‘ نے ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں کہا کہ امریکہ نے ایران کے ساتھ ایک مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے ہیں تاکہ دنیا کو اجازت دی جا سکے کہ وہ کچھ ذخائر دوبارہ بھرے اور پھر تہران کے موقف کو دیکھے۔ یہ بیان مذاکرات کی میز پر ایران کے موقف کی طرف اشارہ ہے۔
تیل ذخیرہ کرنے کے نظام ریفائنریز کے قریب واقع تجارتی ملکیت کے ٹینکوں، سمندر میں تیل سے لدے جہازوں اور حکومتوں کے زیر انتظام اسٹریٹجک ذخائر کے مجموعے سے تشکیل پاتے ہیں۔
اگرچہ ان ذخائر کی دوبارہ تشکیل امریکہ اور ایران کی مفاہمت کی یادداشت میں مقرر کردہ ساٹھ دن کی مہلت سے زیادہ وقت لے گی، لیکن دو اہم عوامل اس عمل کو تیز کر سکتے ہیں جن میں تیل کی قیمتوں میں کمی اور عالمی سپلائی میں اچانک فاضل مقدار کی موجودگی شامل ہے۔
تجزیہ کاروں کا اندازہ ہے کہ آنے والے مہینوں کے دوران تیل کی قیمتیں تقریباً 60 ڈالر فی بیرل تک گر جائیں گی، جس سے توانائی اور نقل و حمل کے اخراجات میں مزید کمی آ سکتی ہے۔
دریں اثنا آبنائے ہرمز سے جہاز رانی کی نقل و حرکت نے اپنی سرگرمیوں کا ایک بڑا حصہ دوبارہ حاصل کر لیا ہے کیونکہ گزرنے والے ٹینکرز کی اوسط تعداد 30 سے 60 یومیہ کے درمیان ہو گئی ہے۔ یہ سطح جنگ سے پہلے کی شرح سے اب بھی کم ہے لیکن عالمی منڈیوں پر دباؤ کم کرنے کے لیے کافی ہے۔