خامنہ ای کی تدفین کی تقریبات جاری، لاکھوں لوگ شریک، مجتبیٰ خامنہ ای تیسرے روز بھی غیر حاضر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کی مسلسل غیر حاضری کے دوران، پیر کی صبح دارالحکومت تہران میں ان کے جنازے کا جلوس تیسرے روز بھی شروع ہو گیا۔

منتظمین کے مطابق جنازے کا جلوس 10 سے 12 گھنٹے تک جاری رہے گا، جس کے دوران یہ تہران کی اہم شاہراہوں اور چوراہوں، جن میں انقلاب اسٹریٹ اور میدان آزادی شامل ہیں، سے گزرے گا۔بعد ازاں جنازے کے جلوس کو مزید مذہبی رسومات کے لیے قم منتقل کیا جائے گا۔

سرکاری پروگرام کے مطابق 8 جولائی کو جنازے کا قافلہ جنوبی عراق جائے گا، جہاں نجف میں حضرت علیؓ اور کربلا میں حضرت امام حسینؓ کے روضوں پر حاضری دی جائے گی۔ اس کے بعد قافلہ ایران واپس آئے گا اور 9 جولائی کو علی خامنہ ای کو ان کے آبائی شہر مشہد میں سپردِ خاک کیا جائے گا۔

ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی (IRIB) نے اپنے ٹیلیگرام چینل پر بتایا کہ تہران میں جنازے کی تقریبات کا آغاز ہو چکا ہے اور ان میں بڑی تعداد میں سوگوار شریک ہیں۔

ادارے کے مطابق ایرانی پرچم میں لپٹے علی خامنہ ای کے تابوت کے ساتھ ان کے خاندان کے ان افراد کے تابوت بھی ایک ٹرک پر رکھے گئے ہیں، جو 28 فروری کو اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ جنگ کے آغاز میں ہونے والے فضائی حملے میں مارے گئے تھے۔ یہ جلوس تہران کی مختلف سڑکوں سے گزرتا ہوا مہرآباد بین الاقوامی ہوائی اڈے کی جانب روانہ ہوگا۔

ایرانی حکومت کو توقع ہے کہ ملک بھر سے بڑی تعداد میں لوگ ان تقریبات میں شریک ہوں گے تاکہ حکومت کے ساتھ عوامی یکجہتی کا اظہار کیا جا سکے۔

گزشتہ تین روز سے تہران کے مصلیٰ میں جاری سرکاری اور عوامی سوگواری کی تقریبات میں ہزاروں افراد نے علی خامنہ ای اور ان کے خاندان کے چار دیگر افراد کو آخری خراجِ عقیدت پیش کیا، جبکہ حکام کا کہنا ہے کہ پیر کے جنازے کے جلوس میں لاکھوں افراد کی شرکت متوقع ہے۔

منتظمین کے مطابق جنازے کا جلوس مقامی وقت کے مطابق صبح 6 بجے (30 :2گرین وچ وقت) روانہ ہوگا اور 10 سے 12 گھنٹے تک جاری رہے گا۔ اس دوران جلوس تہران کی اہم شاہراہوں اور چوراہوں، جن میں انقلاب (انقلابِ اسلامی) اسٹریٹ اور آزادی اسکوائر شامل ہیں، سے گزرے گا۔

ایرانی حکام نے اتوار اور پیر کو سرکاری تعطیل کا اعلان کیا ہے، جبکہ ان کا کہنا ہے کہ صرف تہران میں جنازے کی تقریبات میں ڈیڑھ کروڑ سے دو کروڑ افراد کی شرکت متوقع ہے۔تاہم 36 برس سے زائد عرصے تک ایران کی قیادت کرنے والے علی خامنہ ای کی آخری رسومات صرف تہران تک محدود نہیں ہوں گی۔ ان کے جنازے کو مزید مذہبی تقریبات کے لیے قم منتقل کیا جائے گا، جس کے بعد 8 جولائی کو جنوبی عراق لے جایا جائے گا، جبکہ 9 جولائی کو ایران واپس لا کر ان کے آبائی شہر مشہد میں سپردِ خاک کیا جائے گا۔

اتوار کو علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر ان کے تین بیٹوں مصطفیٰ، مسعود اور میثم موجود تھے، جبکہ ان کے جانشین اور نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای تقریب میں نظر نہیں آئے۔

مجتبیٰ خامنہ ای اپنے منصب سنبھالنے کے بعد سے عوامی منظر سے غائب ہیں، کیونکہ جنگ کے دوران زخمی ہونے کے بعد وہ کسی عوامی تقریب میں شریک نہیں ہوئے۔

سرکاری ٹیلی ویژن کی نشر کردہ تصاویر کے مطابق نمازِ جنازہ کے دوران علی خامنہ ای کے تابوت کے قریب پہلی صف میں ایران کے متعدد اعلیٰ سیاسی اور عسکری حکام بھی موجود تھے، جبکہ ان کے بیٹے مصطفیٰ، مسعود اور میثم بھی ان کے ساتھ کھڑے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں